باصر سلطان کاظمی

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)

29 December 2025

19سپیکرز
149لسنرز

سپیکرز

مدثر ثانی کا پیش کردہ کلام

ایک دروازہ کیا کھلا باہر

ایک دروازہ کیا کھلا باہر گھر کا ہر فرد چل دیا باہر دیکھ یخ بستہ ہے ہوا باہر اس طرح ایک دم نہ جا باہر چل دئے یوں صنم کدے سے ہم جیسے مل جائے گا خدا باہر ایک تجھ سے رہے ہمیشہ دور ورنہ کیا کچھ نہیں ملا باہر گھر میں آ کر سکوں ملا باصرؔ کس قدر تیز تھی ہوا باہر

— باصر سلطان کاظمی

کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہے

کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہے جینے کا اپنے پاس بہانہ یہی تو ہے سوئیں گے ہم بھی چین سے آئے گی وہ بھی رات بھر جائے گا کبھی نہ کبھی زخم ہی تو ہے ہے جس کا انتظار وہ ممکن ہے آ ہی جائے تھوڑی سی دیر کے لیے بارش رُکی تو ہے باصرِؔ کہاں سے لائیں اب اُس کو ترے لیے یہ بات ہی بہت ہے کہ محفل جمی تو ہے

— باصر سلطان کاظمی