سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
سحربیاں
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
ابو لقمان
افراسیاب
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
سجاد علی
ظفر نقوی
عبدالقدیر
فائیٹر
کریسنٹ
مدثر ثانی
مرزا جواد
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
مدثر ثانی کا پیش کردہ کلام
ایک دروازہ کیا کھلا باہر
ایک دروازہ کیا کھلا باہر گھر کا ہر فرد چل دیا باہر دیکھ یخ بستہ ہے ہوا باہر اس طرح ایک دم نہ جا باہر چل دئے یوں صنم کدے سے ہم جیسے مل جائے گا خدا باہر ایک تجھ سے رہے ہمیشہ دور ورنہ کیا کچھ نہیں ملا باہر گھر میں آ کر سکوں ملا باصرؔ کس قدر تیز تھی ہوا باہر
کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہے
کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہے جینے کا اپنے پاس بہانہ یہی تو ہے سوئیں گے ہم بھی چین سے آئے گی وہ بھی رات بھر جائے گا کبھی نہ کبھی زخم ہی تو ہے ہے جس کا انتظار وہ ممکن ہے آ ہی جائے تھوڑی سی دیر کے لیے بارش رُکی تو ہے باصرِؔ کہاں سے لائیں اب اُس کو ترے لیے یہ بات ہی بہت ہے کہ محفل جمی تو ہے