سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
سحربیاں
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
ابو لقمان
افراسیاب
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
سجاد علی
ظفر نقوی
عبدالقدیر
فائیٹر
کریسنٹ
مدثر ثانی
مرزا جواد
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات
خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات یہی بہتر کہ اٹھا رکھوں ملاقات پہ بات رات کو کہتے ہیں کل بات کریں گے دن میں دن گزر جائے تو سمجھو کہ گئی رات پہ بات اپنی باتوں کے زمانے تو ہوا برد ہوئے اب کیا کرتے ہیں ہم صورت حالات پہ بات لوگ جب ملتے ہیں کہتے ہیں کوئی بات کرو جیسے رکھی ہوئی ہوتی ہو مرے ہات پہ بات مل نہ سکنے کے بہانے انہیں آتے ہیں بہت ڈھونڈ لیتے ہیں کوئی ہم بھی ملاقات پہ بات دوسروں کو بھی مزا سننے میں آئے باصرؔ اپنے آنسو کی نہیں کیجئے برسات پہ بات