باصر سلطان کاظمی

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)

29 December 2025

19سپیکرز
149لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات یہی بہتر کہ اٹھا رکھوں ملاقات پہ بات رات کو کہتے ہیں کل بات کریں گے دن میں دن گزر جائے تو سمجھو کہ گئی رات پہ بات اپنی باتوں کے زمانے تو ہوا برد ہوئے اب کیا کرتے ہیں ہم صورت حالات پہ بات لوگ جب ملتے ہیں کہتے ہیں کوئی بات کرو جیسے رکھی ہوئی ہوتی ہو مرے ہات پہ بات مل نہ سکنے کے بہانے انہیں آتے ہیں بہت ڈھونڈ لیتے ہیں کوئی ہم بھی ملاقات پہ بات دوسروں کو بھی مزا سننے میں آئے باصرؔ اپنے آنسو کی نہیں کیجئے برسات پہ بات

— باصر سلطان کاظمی