باصر سلطان کاظمی

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)

29 December 2025

19سپیکرز
149لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

کہاں سیاست اغیار نے ہلاک کیا

کہاں سیاست اغیار نے ہلاک کیا ہمیں تو اپنے ہی افکار نے ہلاک کیا کسی کی موت کا باعث تھی خانہ ویرانی کسی کو رونق گلزار نے ہلاک کیا کسی کے واسطے پھولوں کی سیج موجب مرگ کسی کو جادۂ‌ پر خار نے ہلاک کیا کسی کو شعلۂ خورشید نے جلا ڈالا کسی کو سایۂ اشجار نے ہلاک کیا سواد شام کسی کے لئے پیام اجل کسی کو صبح کے آثار نے ہلاک کیا کسی کی جان گئی دیکھ کر ترا جلوہ کسی کو حسرت دیدار نے ہلاک کیا کوئی شکار ہوا اپنی ہچکچاہٹ کا کسی کو جرأت اظہار نے ہلاک کیا کسی کا تختہ بچھایا نصیب خفتہ نے کسی کو طالع بیدار نے ہلاک کیا وہی ہلاکو کہ جس نے کیے ہزاروں ہلاک اسے بھی وقت کی یلغار نے ہلاک کیا کسی کو مار گیا اس کا کم سخن ہونا کسی کو کثرت اشعار نے ہلاک کیا وہی خسارہ ہے سب کی طرح ہمیں درپیش ہمیں بھی گرمئ بازار نے ہلاک کیا کبھی تباہ ہوئے مشورہ نہ ملنے سے کبھی نوشتۂ دیوار نے ہلاک کیا ملی تھی جس کے لبوں سے نئی حیات ہمیں اسی کی شوخئ گفتار نے ہلاک کیا خدا کا شکر کہ پستی نہ ہم کو کھینچ سکی ہمیں بلندیٔ معیار نے ہلاک کیا

— باصر سلطان کاظمی