سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
سحربیاں
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
ابو لقمان
افراسیاب
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
سجاد علی
ظفر نقوی
عبدالقدیر
فائیٹر
کریسنٹ
مدثر ثانی
مرزا جواد
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں
کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں باصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مری ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی داد مجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں جوں ہی تعلقات کسی سے ہوئے خراب سارے جہاں کی اس میں ملیں گی خرابیاں سرکار کا ہے اپنا ہی معیار انتخاب یارو کہاں کی خوبیاں کیسی خرابیاں آدم خطا کا پتلا ہے گر مان لیں یہ بات نکلیں گی اس خرابی سے کتنی خرابیاں ان ہستیوں کی راہ پہ دیکھیں گے چل کے ہم جن میں نہ تھیں کسی بھی طرح کی خرابیاں بوئیں گے اپنے باغ میں سب خوبیوں کے بیج جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ساری خرابیاں باصرؔ کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اس میں ہیں کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں