باصر سلطان کاظمی

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)

29 December 2025

19سپیکرز
149لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں

کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں باصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مری ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی داد مجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں جوں ہی تعلقات کسی سے ہوئے خراب سارے جہاں کی اس میں ملیں گی خرابیاں سرکار کا ہے اپنا ہی معیار انتخاب یارو کہاں کی خوبیاں کیسی خرابیاں آدم خطا کا پتلا ہے گر مان لیں یہ بات نکلیں گی اس خرابی سے کتنی خرابیاں ان ہستیوں کی راہ پہ دیکھیں گے چل کے ہم جن میں نہ تھیں کسی بھی طرح کی خرابیاں بوئیں گے اپنے باغ میں سب خوبیوں کے بیج جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ساری خرابیاں باصرؔ کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اس میں ہیں کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں

— باصر سلطان کاظمی