سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
سحربیاں
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
ابو لقمان
افراسیاب
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
سجاد علی
ظفر نقوی
عبدالقدیر
فائیٹر
کریسنٹ
مدثر ثانی
مرزا جواد
ملک
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
ظفر نقوی کا پیش کردہ کلام
تھا جو کبھی اک شوق فضول
تھا جو کبھی اک شوق فضول اب ہے وہی اپنا معمول کیسے یاد رہی تجھ کو میری اک چھوٹی سی بھول غم برگد کا گھنا درخت خوشیاں ننھے ننھے پھول اب دل کو سمجھائے کون بات اگرچہ ہے معقول آنسو خشک ہوئے جب سے آنگن میں اڑتی ہے دھول
کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ
ہوا میں جونہی دعا و سلام سے فارغ کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ قضا کو سونپ کے بستی کے انتظامی امور جو منتظم تھے ہوئے انتظام سے فارغ تھے منتظر مرے دو اور بھی ضروری کام ہوا نہ تھا میں ابھی ایک کام سے فارغ وہ جن کو ہونا تھا رخصت بڑی خموشی سے کیے گئے ہیں بڑی دھوم دھام سے فارغ کہانی قیس کی سننے سے پہلے وہ بولے مجھے تو لگتا ہے یہ شخص نام سے فارغ مرے لیے کوئی مصروفیت نہیں باقی کیا گیا ہوں کچھ اِس اہتمام سے فارغ