باصر سلطان کاظمی

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)

29 December 2025

19سپیکرز
149لسنرز

سپیکرز

ظفر نقوی کا پیش کردہ کلام

تھا جو کبھی اک شوق فضول

تھا جو کبھی اک شوق فضول اب ہے وہی اپنا معمول کیسے یاد رہی تجھ کو میری اک چھوٹی سی بھول غم برگد کا گھنا درخت خوشیاں ننھے ننھے پھول اب دل کو سمجھائے کون بات اگرچہ ہے معقول آنسو خشک ہوئے جب سے آنگن میں اڑتی ہے دھول

— باصر سلطان کاظمی

کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ

ہوا میں جونہی دعا و سلام سے فارغ کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ قضا کو سونپ کے بستی کے انتظامی امور جو منتظم تھے ہوئے انتظام سے فارغ تھے منتظر مرے دو اور بھی ضروری کام ہوا نہ تھا میں ابھی ایک کام سے فارغ وہ جن کو ہونا تھا رخصت بڑی خموشی سے کیے گئے ہیں بڑی دھوم دھام سے فارغ کہانی قیس کی سننے سے پہلے وہ بولے مجھے تو لگتا ہے یہ شخص نام سے فارغ مرے لیے کوئی مصروفیت نہیں باقی کیا گیا ہوں کچھ اِس اہتمام سے فارغ

— باصر سلطان کاظمی