کلامِ شاعر
- 01 ہر اک رہ رو، ہر اک رہ گیر کو زنجیر کیا کرنا
- 02 گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا
- 03 سلگ رہا ہوں میں دھیرے دھیرے، مگر کسی پر عیاں نہیں ہے
- 04 زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا
- 05 یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم
- 06 ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے
- 07 مراسم اِس لیے پیدا کیے دربان سے پہلے
- 08 اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا
- 09 محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری
- 10 کہ یہ عہدِ زندگی ہے
- 11 اندر سےکوئی گھنگھرو چھنکے کوئی گیت سنیں تو لکھیں بھی
- 12 جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہو
- 13 آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے
- 14 تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں
- 15 یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں
- 16 ہم بھی شکستہ دل ہیں، پریشان تم بھی ہو
- 17 اس لہو کا لہجہ ہوں
- 18 رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوں
- 19 بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکے
- 20 کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہے
- 21 تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیں
- 22 کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا
- 23 پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے
- 24 ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری
- 25 مجھ سے مخلص تھا نہ واقف مرے جذبات سے تھا
- 26 مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا
- 27 میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں
- 28 بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ
- 29 ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا
- 30 تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو
- 31 جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے