کلامِ شاعر
- 01 مشکل دن بھی ائے لیکن فرق نہ آیا یاری میں
- 02 یہ آپ جانیں کہ رکھنا ہے یا نہیں رکھنا
- 03 راہ میں پڑتی تھی دیوار نہیں دیکھ سکا
- 04 مصیبتیں سر برہنہ ہونگی عقیدتیں بے لباس ہونگی
- 05 کچھ بھی پوچھا نہیں جاتا نہ سنا جاتا ہے
- 06 حد سے بڑھ کر ہو تو ویرانی سے خوش ہوتے ہیں
- 07 جب اس کی آنکھ نے ہر سمت روشنی کی تھی
- 08 راہ میں پڑتی تھی دیوار نہیں دیکھ سکا
- 09 یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے
- 10 یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے
- 11 اسانوں کے پتہ کیہڑی مسجد تے کیہہ کلیسے تے کیہڑے مندر
- 12 لبوں کو دیکھ کے لگتا نہیں، مگر چپ ھے
- 13 خود پسندی سکھا رہا ہوں میں
- 14 یہ جو کوئی کام بھی مستقل نہیں ہو رہا
- 15 جتنا اونچا بولے اس سے اتنی خوشبو آتی ہے
- 16 یہ تو جو آ کے بڑا غمگسار بنتا ہے
- 17 اسی بات کا میرے دل سے ڈر نہیں جا رہا
- 18 کچھ اس لیے اتارا نہیں جا رہا تھا میں
- 19 کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی
- 20 اس انتظار میں ہے آسماں چراغ جلے
- 21 خاموشی کا منظر ہو
- 22 اشک بے ساختہ پتھر سے نکل آتے ہیں
- 23 نہ ان چراغوں نہ ان قمقموں کو دیکھنا ہے
- 24 قہقہ ضبط کا معیار بنا رکھا ہے
- 25 لشکر سے پرے آخری صف تک نہیں پہنچی
- 26 جہاں کہیں سے گزرنا علی علی کرنا
- 27 وہ کتنی دیر کھڑا سوچتا رہا مجھ کو
- 28 تمہاری جانب بھی کیا یونہی بدحواس آتی ہے تم سناو؟
- 29 سارا دن رابطے میں رہتا ہے
- 30 وہ جب ملا تھا ہوس سے بھی جی بھرا ہوا تھا
- 31 یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے
- 32 کر رہی ہیں زیاں عجیب عجیب
- 33 یار یہ کیسی بزدلی کر لی
- 34 تمہاری جانب بھی کیا یونہی بدحواس آتی ہے تم سناو؟
- 35 تمہاری آنکھ ہے دریائی، کھینچ لیتی ہے
- 36 سارا دن رابطے میں رہتا ہے
- 37 میں ایک رات ہوا اس قدر خفا خود سے
- 38 اسی بات کا میرے دل سے ڈر نہیں جا رہا
- 39 پہلے پہلے نہیں لگتی تھی ابھی لگتی ہے
- 40 کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی
- 41 لشکر سے پرے آخری صف تک نہیں پہنچی
- 42 وہ جب ملا تھا ہوس سے بھی جی بھرا ہوا تھا
- 43 میں ہر کسی کو یہی بتاتا ہوں یار اچھی گزر رہی ہے
- 44 عجب طرح کے مسائل ہیں، فرد کیا شئے ہے
- 45 کوئ ولی ہوں اور نہ طریقت ہے میرے پاس
- 46 ڈھیر سامان نکل آیا ہے کم رہتا ہے
- 47 شہر میں چاروں طرف ایک سڑک جاتی ہے
- 48 نظر تو آیا مگر جابجا نہیں آیا
- 49 حد سے بڑھ کر ہو تو ویرانی سے خوش ہوتے ہیں
- 50 مصیبتیں سر برہنہ ہونگی عقیدتیں بے لباس ہونگی
- 51 ماحول مناسب ہو تو اوپر نہیں جاتے
- 52 کچھ بھی پوچھا نہیں جاتا نہ سنا جاتا ہے
- 53 اسانوں کے پتہ کیہڑی مسجد تے کیہہ کلیسے
- 54 وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے
- 55 رونا دھونا ڈال نہ اے دل آسانی بھی آئے گی
- 56 باندھ لی جاتی کمر کاٹ دیے جاتے تھے
- 57 تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں
- 58 کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی
- 59 جہاں سے تجھ کو روانہ کیا تھا، کہتے ہیں
- 60 بس اسی بات سے گھبرایا ہوا لگتا ہوں
- 61 بچا لیا ہے چلو کچھ بھرم رکے ہوئے ہیں
- 62 وہ جانے کس بات پہ میرے سینے لگ کر رویا تھا
- 63 تمہاری آنکھیں حیا کا نظام، ویسے بھی
- 64 رونا دھونا ڈال نہ اے دل آسانی بھی آئے گی
- 65 یہ صرف ہم ہی سمجھتے ہیں جیسے اترے ہیں
- 66 رکھتے ہیں، مگر اتنا زیادہ نہیں رکھتے
- 67 سنی ہے میں نے کسی کی لگی ہوئی آواز
- 68 بوقت شام مکمل حساب دیتی ہے
- 69 كسی کو جھوٹی نمائشوں کا کسی کو شہرت کا مسئلہ ہے
- 70 گناہ بعد میں جا کر معاف ہوتا تھا
- 71 کوئی تصور ہے اور نہ تصویر٬ صرف رنگوں میں بٹ رہی ہے
- 72 پڑھوں گا پیچھے، امامت نہیں کروں گا میں
- 73 ندیاں، پیڑ، پرندے، جنگل، صحرا، سبزہ زاروں کی
- 74 درون جسم کی چیخ و پکار سے پہلے
- 75 ایسا نہیں سمجھنا کہیں جا رہا ہوں میں
- 76 پاکیزہ درگاہوں جیسی صاف اور سچی لگتی ہیں
- 77 ہچکچاہٹ بھی مصیبت ہی بنی جاتی ہے
- 78 بے گھری ساتھ ہی ہوتی ہے جدھر جاتے ہیں
- 79 کسی کو اپنی، کسی کو اپنی، کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہے
- 80 یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے
- 81 وہ کتنی دیر کھڑا سوچتا رہا مجھ کو
- 82 سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھے
- 83 تھرکتا رہتا ہے اکثر دھمال ڈالتا ہے
- 84 مکھ اجلا آنکھیں متوالی میرے یار کے لب یاقوتی ھو