کلامِ شاعر
- 01 جاہ و جلال دام و درہم اور کتنی دیر
- 02 نہ مال و زر ہے نہ جاہ و حشم ہمارا ہے
- 03 اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا
- 04 محبت کی ایک نظم
- 05 مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا
- 06 کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے
- 07 جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار
- 08 انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے
- 09 یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیں
- 10 خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گے
- 11 اپنے آقا کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں
- 12 خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں
- 13 تھکن تو اگلے سفر کے لیے بہانہ تھا
- 14 یہ دُنیا اک سور کے گوشت کی ہڈی کی صورت
- 15 آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ
- 16 کوچ
- 17 دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
- 18 ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
- 19 ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میں
- 20 ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیں
- 21 کچھ دیر پہلے نیند سے
- 22 خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
- 23 یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے
- 24 عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی
- 25 حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے
- 26 جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں
- 27 مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
- 28 سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں
- 29 شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے
- 30 بارہواں کھلاڑی