کلامِ شاعر
- 01 لب لعل پہ مرتعش مرتعش سے
- 02 چاند ٹوٹا پگھل گئے تارے
- 03 پتھر کے خدا وہاں بھی پائے
- 04 نذرانہ
- 05 مکان
- 06 ذرا سی آہٹ ہوتی ہے تو دل سوچتا ہے
- 07 جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
- 08 اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز
- 09 شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
- 10 دائرہ
- 11 سومنات
- 12 تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا
- 13 حریت کو آج پھر ہے ابن حیدر کی تلاش
- 14 خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے
- 15 کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے
- 16 بہارو میرا جیون بھی سنوارو
- 17 اندیشے
- 18 یہ دنیا ، یہ محفل
- 19 یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے
- 20 پشیمانی
- 21 کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیا
- 22 عورت
- 23 وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعد
- 24 تم اتنا جو مسکرا رہے ہو
- 25 سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے
- 26 شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
- 27 پتھر کے خدا وہاں بھی پائے
- 28 میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا
- 29 لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میں
- 30 کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں
- 31 کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ
- 32 خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے
- 33 کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا
- 34 جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہا
- 35 جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
- 36 اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑے
- 37 ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی
- 38 آج سوچا تو آنسو بھر آئے