کلامِ شاعر
- 01 شہر انا میں
- 02 میں
- 03 تسخیر فطرت کے بعد
- 04 تسخیر فطرت کے بعد
- 05 شہر انا میں
- 06 دوام
- 07 تلاش
- 08 سورج کا شہر
- 09 ہمدردیاں تو درد نہاں کی دوا نہیں
- 10 گل نو کے ہاتھ سے دم بہ دم جو صبا نکلتی چلی گئی
- 11 مجھ کو تو پہلے کا سب سچ ناٹک جیسا لگتا ہے
- 12 ضرب تیشہ کی صدا میں کیا اٹھا کر لے گئے
- 13 سوئے شہر آئے اڑاتے پرچم صحرا کو ہم
- 14 قید امکاں سے تمنا تھی گمیں چھوٹ گئی
- 15 لٹنے والو دل برباد کی توقیر نہ جائے
- 16 بے سر و ساماں کچھ اپنی طبع سے ہیں گھر میں ہم
- 17 یہ محشر سوز و ساز کیا ہے
- 18 ہوس زلف گرہ گیر لیے بیٹھے ہیں
- 19 حیات میں بھی اجل کا سماں دکھائی دے
- 20 میں ہی میں بکھرا ہوا ہوں راہ تا منزل تمام
- 21 رتبۂ درد کو جب اپنا ہنر پہنچے گا
- 22 ہجر و وصال یار کا موسم نکل گیا
- 23 دشت غربت ہے تو وہ کیوں ہیں خفا ہم سے بہت
- 24 اب کہاں لے کے چھپیں عریاں بدن اور تن جلا
- 25 اس دھوپ سے کیا گلہ ہے مجھ کو
- 26 شام رکھتی ہے بہت درد سے بیتاب مجھے
- 27 یاد اس کی ہے کچھ ایسی کہ بسرتی بھی نہیں
- 28 دل پر وفا کا بوجھ اٹھاتے رہے ہیں ہم