کلامِ شاعر
- 01 اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئے
- 02 تشنگی اچھی نہیں رکھنا بہت
- 03 روایت نہ ٹوٹے
- 04 خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے
- 05 کتے اور خرگوش
- 06 خوش بیاباں میں مگر شہر میں ڈرنا اس کا
- 07 یہ حوصلہ تجھے مہتاب جاں ہوا کیسے
- 08 مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے
- 09 ایک نظم اجازتوں کے لیے
- 10 کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے
- 11 وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا
- 12 سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا
- 13 کبھی نظر توآ تسکین اضطراب تو دے
- 14 گریہ، مایوسی، غم ترک وفا کچھ نہ رہا
- 15 ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے
- 16 ہم گنہ گار عورتیں ہیں
- 17 شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی
- 18 نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کر
- 19 حوصلہ شرط وفا کیا کرنا
- 20 دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی
- 21 حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں
- 22 ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے
- 23 تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھا
- 24 ابھی موسم نہیں بدلا
- 25 عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں
- 26 میں کون ہوں
- 27 جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہو
- 28 دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے