کلامِ شاعر
- 01 دل کا کیا ہے دل نے کتنے منظر دیکھے لیکن
- 02 سلام رہبر آزادی حیات سلام
- 03 مجھ کو رسوا سر محفل تو نہ کروایا کرے
- 04 محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
- 05 اداس شام کی ایک نظم
- 06 ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے
- 07 بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
- 08 اعتراف
- 09 ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہے
- 10 عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے
- 11 دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوا
- 12 وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے
- 13 تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون
- 14 ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے
- 15 کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیں
- 16 رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے
- 17 ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھاؤں میں رہنا تھا
- 18 یہ نام ممکن نہیں رہے گا مقام ممکن نہیں رہے گا
- 19 ایک جیسا مکالمہ
- 20 خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا
- 21 محبتوں میں خسارہ عجیب لگتا ہے
- 22 ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے
- 23 ورثہ
- 24 کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دے
- 25 بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے
- 26 تمام دکھ ہے
- 27 دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف
- 28 عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں
- 29 کون روک سکتا ہے
- 30 پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
- 31 اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا