کلامِ شاعر
- 01 جو سچی بات کرنا تھا، کہاں ہے وہ
- 02 اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں
- 03 نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز
- 04 یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں
- 05 یہ سیلِ گریہ غبارِ عصیاں کو دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی
- 06 اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئے
- 07 پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں
- 08 چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سے
- 09 بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے
- 10 یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے
- 11 دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پر
- 12 ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس
- 13 بہت سے خواب دیکھے ہیں، کبھی شعروں میں ڈھالیں گے
- 14 کس کی تحویل میں تھے کس کے حوالے ہوئے لوگ
- 15 ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا
- 16 تجھ کو پانے کی تمنا تجھے کھونا تو نہیں
- 17 تمہارے بعد کا سفر رائیگاں لگا مجھ کو
- 18 زخمِ احساس اگر ہم بھی دکھانے لگ جائیں
- 19 قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
- 20 فریب جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے
- 21 اس خرابے کی تاریخ کچھ بھی سہی، رات ڈھلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے
- 22 لذتِ ہجر لے گئی، وصل کے خواب لے گئی
- 23 میری طلب، مری رسوائیوں کے بعد کُھلا
- 24 کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے
- 25 میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے