کلامِ شاعر
- 01 کیا بدن ہوگا، جلا ہے دریچوں کے قریب
- 02 مٹی! تجھ کو نذر کئے ہیں ہم نے اپنے سارے خواب
- 03 نظر آتا نہیں لیکن اشارہ کر رہا ہے
- 04 شہر میں دل کے سروکار کہیں چلتے ہیں
- 05 پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو
- 06 فصل گل ہے سجا ہے مے خانہ
- 07 عشق میں کیا کیا میرے جنوں کی کی نہ برائی لوگوں نے
- 08 نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا
- 09 اشک غم آنکھ سے باہر بھی نہیں آنے کا
- 10 زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا
- 11 مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے
- 12 دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسے
- 13 دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں
- 14 اور آہستہ کیجیے باتیں
- 15 اب کے سال پُونم میں
- 16 تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی
- 17 جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کو
- 18 زخم کھا کھا کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے
- 19 بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا
- 20 دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے
- 21 میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے