ادا جعفری

ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)

12 December 2025

19سپیکرز
242لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

آخری ٹیس آزمانے کو

آخری ٹیس آزمانے کو جی تو چاہا تھا مسکرانے کو یاد اتنی بھی سخت جاں تو نہیں اک گھروندا رہا ہے ڈھانے کو سنگریزوں میں ڈھل گئے آنسو لوگ ہنستے رہے دکھانے کو زخم نغمہ بھی لو تو دیتا ہے اک دیا رہ گیا جلانے کو جلنے والے تو جل بجھے آخر کون دیتا خبر زمانے کو کتنے مجبور ہو گئے ہوں گے ان کہی بات منہ پہ لانے کو کھل کے ہنسنا تو سب کو آتا ہے لوگ ترسے ہیں اک بہانے کو ریزہ ریزہ بکھر گیا انساں دل کی ویرانیاں جتانے کو حسرتوں کی پناہ گاہوں میں کیا ٹھکانے ہیں سر چھپانے کو ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمی پھول بالوں میں اک سجانے کو آس کی بات ہو کہ سانس اداؔ یہ کھلونے تھے ٹوٹ جانے کو

— ادا جعفری

ویسے ہی خیال آ گیا ہے

ویسے ہی خیال آ گیا ہے یا دل میں ملال آ گیا ہے آنسو جو رکا وہ کشت جاں میں بارش کی مثال آ گیا ہے غم کو نہ زیاں کہو کہ دل میں اک صاحب حال آ گیا ہے جگنو ہی سہی فصیل شب میں آئینہ خصال آ گیا ہے آ دیکھ کہ میرے آنسوؤں میں یہ کس کا جمال آ گیا ہے مدت ہوئی کچھ نہ دیکھنے کا آنکھوں کو کمال آ گیا ہے میں کتنے حصار توڑ آئی جینا تھا محال آ گیا ہے

— ادا جعفری