سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
آخری ٹیس آزمانے کو
آخری ٹیس آزمانے کو جی تو چاہا تھا مسکرانے کو یاد اتنی بھی سخت جاں تو نہیں اک گھروندا رہا ہے ڈھانے کو سنگریزوں میں ڈھل گئے آنسو لوگ ہنستے رہے دکھانے کو زخم نغمہ بھی لو تو دیتا ہے اک دیا رہ گیا جلانے کو جلنے والے تو جل بجھے آخر کون دیتا خبر زمانے کو کتنے مجبور ہو گئے ہوں گے ان کہی بات منہ پہ لانے کو کھل کے ہنسنا تو سب کو آتا ہے لوگ ترسے ہیں اک بہانے کو ریزہ ریزہ بکھر گیا انساں دل کی ویرانیاں جتانے کو حسرتوں کی پناہ گاہوں میں کیا ٹھکانے ہیں سر چھپانے کو ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمی پھول بالوں میں اک سجانے کو آس کی بات ہو کہ سانس اداؔ یہ کھلونے تھے ٹوٹ جانے کو
ویسے ہی خیال آ گیا ہے
ویسے ہی خیال آ گیا ہے یا دل میں ملال آ گیا ہے آنسو جو رکا وہ کشت جاں میں بارش کی مثال آ گیا ہے غم کو نہ زیاں کہو کہ دل میں اک صاحب حال آ گیا ہے جگنو ہی سہی فصیل شب میں آئینہ خصال آ گیا ہے آ دیکھ کہ میرے آنسوؤں میں یہ کس کا جمال آ گیا ہے مدت ہوئی کچھ نہ دیکھنے کا آنکھوں کو کمال آ گیا ہے میں کتنے حصار توڑ آئی جینا تھا محال آ گیا ہے