ادا جعفری

ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)

12 December 2025

19سپیکرز
242لسنرز

سپیکرز

مون واکر کا پیش کردہ کلام

کیوں

تم جو قاتل نہ مسیحا ٹھہرے نہ علاج شب ہجراں نہ غم چارہ گراں نہ کوئی دشنۂ پنہاں نہ کہیں خنجر سم آلودہ نہ قریب رگ جاں تم تو اس عہد کے انساں ہو جسے وادی مرگ میں جینے کا ہنر آتا تھا مدتوں پہلے بھی جب رخت سفر باندھا تھا ہاتھ جب دست دعا تھے اپنے پانو زنجیر کے حلقوں سے کٹے جاتے تھے لفظ تقصیر تھے آواز پہ تعزیریں تھیں تم نے معصوم جسارت کی تھی اک تمنا کی عبادت کی تھی پا برہنہ تھے تمہارے یہی بوسیدہ قبا تھی تن پر اور یہی سرخ لہو کے دھبے جنہیں تحریر گل و لالہ کہا تھا تم نے ہر نظارہ پہ نظارگی جاں تم کو ہر گلی کوچۂ محبوب نظر آئی تھی رات کو زلف سے تعبیر کیا تھا تم نے تم بھلا کیوں رسن و دار تک آ پہنچے ہو تم نہ منصور نہ عیسیٰ ٹھہرے

— ادا جعفری