ادا جعفری

ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)

12 December 2025

19سپیکرز
242لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

ہم نے پورا زور لگا کر رقص کیا

ہم نے پورا زور لگا کر رقص کیا شرم گئی تو سامنے آ کر رقص کیا دنیا مستوں کو بے علم سمجھتی تھی ہم نے پھر قرآن سنا کر رقص کیا جس نے ہم کو روکنا چاہا ناچنے سے اس کی آنکھ سے آنکھ ملا کر رقص کیا چھوڑ دیا مچھلی کو واپس دریا میں اور پھر اپنا ہجر منا کر رقص کیا اپنی مٹی گوندھی اپنے اشکوں سے اپنے چاک کو آپ گھما کر رقص کیا تم نے صرف بدن سے اس کو پوجا ہے ہم نے روح کو ساتھ ملا کر رقص کیا گوری تجھ کو خواہش دے کر ہم روئے سانولی تجھ کو خواب دکھا کر رقص کیا ایک مقام پہ نور بھی جلنے لگتا ہے اور وہاں پر خاک نے جا کر رقص کیا وہم کو اپنے سامنے لا کر رقص کیا اسم پہ اک تصویر سجا کر رقص کیا بلھے شاہ نے ڈھول بجایا اور ہم نے باھو کی نگری میں جا کر رقص کیا ہولی کھیلی پیر نجام الدین کے ساتھ اور خسرو کو ساتھ نچا کر رقص کیا غوث قطب ابدال مبارکیں دینے لگے قادری چشتی رنگ ملا کر رقص کیا یار منانے کی خاطر سب ناچے ہیں ہم نے اپنا یار منا کر رقص کیا ندیم بھابھہ

— نا معلوم