سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
ہر شخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے
ہر شخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے سائے کو بھی دیکھوں تو گریزاں سا لگے ہے کیا آس تھی دل کو کہ ابھی تک نہیں ٹوٹی جھونکا بھی ہوا کا ہمیں مہماں سا لگے ہے خوشبو کا یہ انداز بہاروں میں نہیں تھا پردے میں صبا کے کوئی ارماں سا لگے ہے سونپی گئی ہر دولتِ بیدار اسی کو یہ دل جو ہمیں آج بھی ناداں سا لگے ہے آنچل کا جو تھا رنگ وہ پلکوں پہ رچا ہے صحرا میری آنکھوں کو گلستاں سا لگے ہے پندار نے ہر بار نیا دیپ جلایا جو چوٹ بھی کھائی ہے وہ احساں سا لگے ہے ہر عہد نے لکھی ہے میرے غم کی کہانی ہر شہر میرے خواب کا عنواں سا لگے ہے تجھ کو بھی ادا جرأتِ گفتار ملی ہے تو بھی تو مجھے حرفِ پریشاں سا لگے ہے
یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں
یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں یہ حال تھا کہ دل کو اسم آرزو ملا نہیں ابھی تلک جو خواب تھے چراغ تھے گلاب تھے وہ رہ گزر کوئی نہ تھی کہ جس پہ تو ملا نہیں تمام عمر کی مسافتوں کے بعد ہی کھلا کبھی کبھی وہ پاس تھا جو چار سو ملا نہیں وہ جیسے اک خیال تھا جو زندگی پہ چھا گیا رفاقتیں تھیں اور یوں کہ روبرو ملا نہیں تمام آئنوں میں عکس تھے مری نگاہ کے بھرے نگر میں ایک بھی مجھے عدو ملا نہیں وراثتوں کے ہاتھ میں جو اک کتاب تھی ملی کتاب میں جو حرف ہے ستارہ خو ملا نہیں وہ کیسی آس تھی ادا جو کو بہ کو لیے پھری وہ کچھ تو تھا جو دل کو آج تک کبھو ملا نہیں