سپیکرز
حسن شبیر کا پیش کردہ کلام
گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاں
گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاں ہم ایسے لوگ اب ملیں حکایتوں کے درمیاں لہولہان انگلیاں ہیں اور چپ کھڑی ہوں میں گل و سمن کی بے پناہ چاہتوں کے درمیاں ہتھیلیوں کی اوٹ ہی چراغ لے چلوں ابھی ابھی سحر کا ذکر ہے روایتوں کے درمیاں جو دل میں تھی نگاہ سی نگاہ میں کرن سی تھی وہ داستاں الجھ گئی وضاحتوں کے درمیاں صحیفۂ حیات میں جہاں جہاں لکھی گئی لکھی گئی حدیث جاں جراحتوں کے درمیاں کوئی نگر کوئی گلی شجر کی چھاؤں ہی سہی یہ زندگی نہ کٹ سکے مسافتوں کے درمیاں اب اس کے خال و خد کا رنگ مجھ سے پوچھنا عبث نگہ جھپک جھپک گئی ارادتوں کے درمیاں صبا کا ہاتھ تھام کر اداؔ نہ چل سکوگی تم تمام عمر خواب خواب ساعتوں کے درمیاں
گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید
گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید راہ میں سنگ وفا تھا شاید اس قدر تیز ہوا کے جھونکے شاخ پر پھول کھلا تھا شاید جس کی باتوں کے فسانے لکھے اس نے تو کچھ نہ کہا تھا شاید لوگ بے مہر نہ ہوتے ہوں گے وہم سا دل کو ہوا تھا شاید تجھ کو بھولے تو دعا تک بھولے اور وہی وقت دعا تھا شاید خون دل میں تو ڈبویا تھا قلم اور پھر کچھ نہ لکھا تھا شاید دل کا جو رنگ ہے یہ رنگ اداؔ پہلے آنکھوں میں رچا تھا شاید