ادا جعفری

ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)

12 December 2025

19سپیکرز
242لسنرز

سپیکرز

زاہد کا پیش کردہ کلام

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا یہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہا جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکی کسی کارواں کا جو ذکر تھا وہ پس غبار کہاں رہا یہ طلوع روز ملال ہے سو گلہ بھی کس سے کریں گے ہم کوئی دل ربا کوئی دل شکن کوئی دل فگار کہاں رہا کوئی بات خواب و خیال کی جو کرو تو وقت کٹے گا اب ہمیں موسموں کے مزاج پر کوئی اعتبار کہاں رہا ہمیں کو بہ کو جو لیے پھری کسی نقش پا کی تلاش تھی کوئی آفتاب تھا ضو فگن سر رہ گزار کہاں رہا مگر ایک دھن تو لگی رہی نہ یہ دل دکھا نہ گلہ ہوا کہ نگہ کو رنگ بہار پر کوئی اختیار کہاں رہا سر دشت ہی رہا تشنہ لب جسے زندگی کی تلاش تھی جسے زندگی کی تلاش تھی لب جوئبار کہاں رہا

— ادا جعفری