سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھی
شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھی کیوں ورنہ انتظار بھی ہے اضطرار بھی دھیان آ گیا تھا مرگ دل نامراد کا ملنے کو مل گیا ہے سکوں بھی قرار بھی اب ڈھونڈنے چلے ہو مسافر کو دوستو حد نگاہ تک نہ رہا جب غبار بھی ہر آستاں پہ ناصیہ فرسا ہیں آج وہ جو کل نہ کر سکے تھے تیرا انتظار بھی اک راہ رک گئی تو ٹھٹک کیوں گئیں اداؔ آباد بستیاں ہیں پہاڑوں کے پار بھی
آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا
آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا اچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھا دامان چاک چاک گلوں کو بہانہ تھا دل کا جو رنگ تھا وہ نظر سے چھپا نہ تھا رنگ شفق کی دھوپ کھلی تھی قدم قدم مقتل میں صبح و شام کا منظر جدا نہ تھا کیا بوجھ تھا کہ جس کو اٹھائے ہوئے تھے لوگ مڑ کر کسی کی سمت کوئی دیکھتا نہ تھا کچھ اتنی روشنی میں تھے چہروں کے آئنہ دل اس کو ڈھونڈھتا تھا جسے جانتا نہ تھا کچھ لوگ شرمسار خدا جانے کیوں ہوئے اپنے سوا ہمیں تو کسی سے گلا نہ تھا ہر اک قدم اٹھا تھا نئے موسموں کے ساتھ وہ جو صنم تراش تھا بت پوجتا نہ تھا جس در سے دل کو ذوق عبادت عطا ہوا اس آستان شوق پہ سجدہ روا نہ تھا آندھی میں برگ گل کی زباں سے ادا ہوا وہ راز جو کسی سے ابھی تک کہا نہ تھا