سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھا
جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھا جینے کی آرزو تھی مگر حوصلہ نہ تھا آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا اچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھا دامان چاک چاک گلوں کو بہانہ تھا ورنہ نگاہ و دل میں کوئی فاصلہ نہ تھا کچھ لوگ شرمسار خدا جانے کیوں ہوئے ان سے تو روح عصر ہمیں کچھ گلہ نہ تھا جلتے رہے خیال برستی رہی گھٹا ہاں ناز آگہی تجھے کیا کچھ روا نہ تھا سنسان دوپہر ہے بڑا جی اداس ہے کہنے کو ساتھ ساتھ ہمارے زمانہ تھا ہر آرزو کا نام نہیں آبروئے جاں ہر تشنہ لب جمال رخ کربلا نہ تھا آندھی میں برگ گل کی زباں سے اداؔ ہوا وہ راز جو کسی سے ابھی تک کہا نہ تھا
وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے
وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے بے ہمتا ہے بے پروا ہے دور بسا اور ساتھ رہا ہے اجلی دُھوپ ۔۔۔گھنا سایا ہے یوں تو کس کو چاہ نہیں ہے اس ساگر کی تھاہ نہیں ہے میں تو بس اتنا ہی جانوں جب بھی اس کا نام لیا ہے اس نے بڑھ کر تھام لیا ہے گیت مرے ، آہنگ اس کا ہے چیزی میری ، رنگ اس کا ہے ان جانی من مانی گلیوں میرے سنگ تو سنگ اس کا ہے ایک دئیے کی لٙو سے میں نے جگ مگ کالی راتیں کی ہیں پچھلے پہر کے سناٹوں نے آکر اس کی باتیں کی ہیں سورج کی پہلی کرنوں نے آنکھ میں اس کی چھب دیکھی ہے دل میں اس کی چاپ سنی ہے آس نر اس کے سارے بندھن آنکھ کا آنسو دھیان کا چندن خوشیوں کے سب محل دو محلے زخموں کے سب گہنے گجرے میں نے اس کو سونپ دیئے ہیں