ادا جعفری

ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)

12 December 2025

19سپیکرز
242لسنرز

سپیکرز

عروج فیاض کا پیش کردہ کلام

اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا

اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا دعا آساں نہیں رہنا سخن دشوار ہو جانا تمہیں دیکھیں نگاہیں اور تم کو ہی نہیں دیکھیں محبت کے سبھی رشتوں کا یوں نادار ہو جانا ابھی تو بے نیازی میں تخاطب کی سی خوشبو تھی ہمیں اچھا لگا تھا درد کا دل دار ہو جانا اگر سچ اتنا ظالم ہے تو ہم سے جھوٹ ہی بولو ہمیں آتا ہے پت جھڑ کے دنوں گل بار ہو جانا ابھی کچھ ان کہے الفاظ بھی ہیں کنج مژگاں میں اگر تم اس طرف آؤ صبا رفتار ہو جانا ہوا تو ہم سفر ٹھہری سمجھ میں کس طرح آئے ہواؤں کا ہماری راہ میں دیوار ہو جانا ابھی تو سلسلہ اپنا زمیں سے آسماں تک تھا ابھی دیکھا تھا راتوں کا سحر آثار ہو جانا ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا

— ادا جعفری

آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے برف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے چاہے کوئی رک جائے، چاہے کوئی رہ جائے قافلوں کو چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے چاہے کوئی جیسا بھی ہم سفر ہوصدیوں سے راستہ بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے یہ تو وقت کے بس میں ہے کہ کتنی مہلت دے ورنہ بخت ڈھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے موم کا بدن لے کر دھوپ میں نکل آنا اور پھر پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے سوچ کی زمینوں پر راستے جُدا ہوں تو دُور جا نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

— فرحت عباس شاہ