سپیکرز
عروج فیاض کا پیش کردہ کلام
اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا
اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا دعا آساں نہیں رہنا سخن دشوار ہو جانا تمہیں دیکھیں نگاہیں اور تم کو ہی نہیں دیکھیں محبت کے سبھی رشتوں کا یوں نادار ہو جانا ابھی تو بے نیازی میں تخاطب کی سی خوشبو تھی ہمیں اچھا لگا تھا درد کا دل دار ہو جانا اگر سچ اتنا ظالم ہے تو ہم سے جھوٹ ہی بولو ہمیں آتا ہے پت جھڑ کے دنوں گل بار ہو جانا ابھی کچھ ان کہے الفاظ بھی ہیں کنج مژگاں میں اگر تم اس طرف آؤ صبا رفتار ہو جانا ہوا تو ہم سفر ٹھہری سمجھ میں کس طرح آئے ہواؤں کا ہماری راہ میں دیوار ہو جانا ابھی تو سلسلہ اپنا زمیں سے آسماں تک تھا ابھی دیکھا تھا راتوں کا سحر آثار ہو جانا ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا
آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے برف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے چاہے کوئی رک جائے، چاہے کوئی رہ جائے قافلوں کو چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے چاہے کوئی جیسا بھی ہم سفر ہوصدیوں سے راستہ بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے یہ تو وقت کے بس میں ہے کہ کتنی مہلت دے ورنہ بخت ڈھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے موم کا بدن لے کر دھوپ میں نکل آنا اور پھر پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے سوچ کی زمینوں پر راستے جُدا ہوں تو دُور جا نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے