سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچے خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاں یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے جس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے
خود حجابوں سا خود جمال سا تھا
خود حجابوں سا خود جمال سا تھا دل کا عالم بھی بے مثال سا تھا عکس میرا بھی آئنوں میں نہیں وہ بھی کیفیت خیال سا تھا دشت میں سامنے تھا خیمۂ گل دوریوں میں عجب کمال سا تھا بے سبب تو نہیں تھا آنکھوں میں ایک موسم کہ لا زوال سا تھا خوف اندھیروں کا ڈر اجالوں سے سانحہ تھا تو حسب حال سا تھا کیا قیامت ہے حجلۂ جاں میں اس کے ہوتے ہوئے ملال سا تھا جس کی جانب اداؔ نظر نہ اٹھی حال اس کا بھی میرے حال سا تھا
ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں
ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں صرف آنکھوں پہ کئی ایک زمانے لگ جائیں میں اگر پھول کی پتی پہ ترا نام لکھوں تتلیاں اُڑ کے ترے نام پہ آنے لگ جائیں تو اگر ایک جھلک اپنی دکھا دے اُن کو سب مصور تری تصویر بنانے لگ جائیں ایک لمحے کو اگر تیرا تبسم دیکھیں ہوش والوں کے سبھی ہوش ٹھکانے لگ جائیں سرمدی لہجے میں گاتے ہوئے حساس پرند دل کی آواز میں آواز ملانے لگ جائیں ہم اگر وجد میں آئیں تو زمانے کو سعید کبھی غزلیں تو کبھی خواب سنانے لگ جائیں مبشر سعید