ادا جعفری

ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)

12 December 2025

19سپیکرز
242لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوں

کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوں کہنے کو تو جس راہ چلایا ہے چلی ہوں تم پاس نہیں ہو تو عجب حال ہے دل کا یوں جیسے میں کچھ رکھ کے کہیں بھول گئی ہوں پھولوں کے کٹوروں سے چھلک پڑتی ہے شبنم ہنسنے کو ترے پیچھے بھی سو بار ہنسی ہوں تیرے لیے تقدیر مری جنبش ابرو اور میں ترا ایمائے نظر دیکھ رہی ہوں صدیوں سے مرے پاؤں تلے جنت‌ انساں میں جنت انساں کا پتہ پوچھ رہی ہوں دل کو تو یہ کہتے ہیں کہ بس قطرۂ خوں ہے کس آس پہ اے سنگ سر راہ چلی ہوں جس ہاتھ کی تقدیس نے گلشن کو سنوارا اس ہاتھ کی تقدیر پہ آزردہ رہی ہوں قسمت کے کھلونے ہیں اجالا کہ اندھیرا دل شعلہ طلب تھا سو بہرحال جلی ہوں

— ادا جعفری