ادا جعفری

ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)

12 December 2025

19سپیکرز
242لسنرز

سپیکرز

روح من کا پیش کردہ کلام

ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی

ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی اس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھی وہی خانہ بدوش امیدیں وہی بے صبر دل کی خو ہے ابھی دل کے گنجان راستوں پہ کہیں تیری آواز اور تو ہے ابھی زندگی کی طرح خراج طلب کوئی درماندہ آرزو ہے ابھی بولتے ہیں دلوں کے سناٹے شور سا یہ جو چار سو ہے ابھی زرد پتوں کو لے گئی ہے ہوا شاخ میں شدت نمو ہے ابھی ورنہ انسان مر گیا ہوتا کوئی بے نام جستجو ہے ابھی ہم سفر بھی ہیں رہ گزر بھی ہے یہ مسافر ہی کو بہ کو ہے ابھی

— ادا جعفری