ادا جعفری

ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)

12 December 2025

19سپیکرز
242لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

شکست ساز

میں نے گل ریز بہاروں کی تمنا کی تھی مجھے افسردہ نگاہوں کے سوا کچھ نہ ملا چند سہمی ہوئی آہوں کے سوا کچھ نہ ملا جگمگاتے ہوئے تاروں کی تمنا کی تھی میں نے موہوم امیدوں کی پناہیں ڈھونڈیں شدت یاس میں مبہم سا اشارہ نہ ملا ڈگمگاتے ہوئے قدموں کو سہارا نہ ملا ہائے کس دشت بلا خیز میں راہیں ڈھونڈیں اب فسوں ساز بہاروں سے مجھے کیا مطلب آج ہی میری نگاہوں میں وہ منظر توبہ میں نے دیکھے ہیں لپکتے ہوئے نشتر توبہ خلد بر دوش نظاروں سے مجھے کیا مطلب آسماں نور کے نغمات سے معمور سہی میں نے گھٹتی ہوئی چیخوں کے سنے ہیں نوحے ہائے وہ اشک جو پلکوں سے ڈھلک بھی نہ سکے زندگی حسن و جوانی سے ابھی چور سہی کبھی ضو پاش ستاروں کی تمنا تھی مجھے آج ذروں کو بھی مقصود بنا رکھا ہے آج کانٹوں کو کلیجے سے لگا رکھا ہے کبھی گل ریز بہاروں کی تمنا تھی مجھے

— ادا جعفری

روزِ حساب

کتنے مظلوم گئے دنیا سے روز محشر کے انتظار میں ھیں اور اس دن خُدا سے بولیں گے بڑے ظالم تھے نام لیوا تیرے نام پہ تیرے ظُلم کرتے تھے نابلد تھے جو لفظِ غیرت سے نام ِغیرت قتال کرتے تھے دین اک کاروبار تھا ان کا صاحب مسند قضاوت بھی عدل کی دھجیاں اُڑاتے تھے حکمرانوں سے داد پاتے تھے حد تو یہ ھے کہ مفتی و مُلّا نفرتیں بانٹتے تھے لوگوں میں اپنے فتووں سے مَکر وحیلہ سے کفر و توہین میں پھنساتے تھے حق پرستوں کے سر کٹاتے تھے اور اپنی حوس پرستی میں یہ تقدس کو بھول جاتے تھے درسگاہوں میں اور مساجد میں اپنی ابلیسیت دکھاتے تھے تو جنھیں حکمراں بناتا تھا وہ بھی کب تیرا خوف کھاتے تھے ان کے فرعون جاگ جاتے تھے ھم نے آواز تو اُٹھائی تھی ھم میں طاقت نہیں تھی لڑنے کی ھم سے چھینی گئی حیات مگر آج روز حساب ھے یارب آج سارے حساب ھونے ھیں آج قاضی بھی تو گواہ بھی تو آج خاموش سبھی قاضی ھیں ھم تیرے فیصلوں پہ راضی ھیں

— سجاد رضا