سپیکرز
سجاد رضا کا پیش کردہ کلام
شکست ساز
میں نے گل ریز بہاروں کی تمنا کی تھی مجھے افسردہ نگاہوں کے سوا کچھ نہ ملا چند سہمی ہوئی آہوں کے سوا کچھ نہ ملا جگمگاتے ہوئے تاروں کی تمنا کی تھی میں نے موہوم امیدوں کی پناہیں ڈھونڈیں شدت یاس میں مبہم سا اشارہ نہ ملا ڈگمگاتے ہوئے قدموں کو سہارا نہ ملا ہائے کس دشت بلا خیز میں راہیں ڈھونڈیں اب فسوں ساز بہاروں سے مجھے کیا مطلب آج ہی میری نگاہوں میں وہ منظر توبہ میں نے دیکھے ہیں لپکتے ہوئے نشتر توبہ خلد بر دوش نظاروں سے مجھے کیا مطلب آسماں نور کے نغمات سے معمور سہی میں نے گھٹتی ہوئی چیخوں کے سنے ہیں نوحے ہائے وہ اشک جو پلکوں سے ڈھلک بھی نہ سکے زندگی حسن و جوانی سے ابھی چور سہی کبھی ضو پاش ستاروں کی تمنا تھی مجھے آج ذروں کو بھی مقصود بنا رکھا ہے آج کانٹوں کو کلیجے سے لگا رکھا ہے کبھی گل ریز بہاروں کی تمنا تھی مجھے
روزِ حساب
کتنے مظلوم گئے دنیا سے روز محشر کے انتظار میں ھیں اور اس دن خُدا سے بولیں گے بڑے ظالم تھے نام لیوا تیرے نام پہ تیرے ظُلم کرتے تھے نابلد تھے جو لفظِ غیرت سے نام ِغیرت قتال کرتے تھے دین اک کاروبار تھا ان کا صاحب مسند قضاوت بھی عدل کی دھجیاں اُڑاتے تھے حکمرانوں سے داد پاتے تھے حد تو یہ ھے کہ مفتی و مُلّا نفرتیں بانٹتے تھے لوگوں میں اپنے فتووں سے مَکر وحیلہ سے کفر و توہین میں پھنساتے تھے حق پرستوں کے سر کٹاتے تھے اور اپنی حوس پرستی میں یہ تقدس کو بھول جاتے تھے درسگاہوں میں اور مساجد میں اپنی ابلیسیت دکھاتے تھے تو جنھیں حکمراں بناتا تھا وہ بھی کب تیرا خوف کھاتے تھے ان کے فرعون جاگ جاتے تھے ھم نے آواز تو اُٹھائی تھی ھم میں طاقت نہیں تھی لڑنے کی ھم سے چھینی گئی حیات مگر آج روز حساب ھے یارب آج سارے حساب ھونے ھیں آج قاضی بھی تو گواہ بھی تو آج خاموش سبھی قاضی ھیں ھم تیرے فیصلوں پہ راضی ھیں