ادا جعفری

ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)

12 December 2025

19سپیکرز
242لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا

اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا ہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتا جو آنکھوں اوٹ ہے چہرہ اسی کو دیکھ کر جینا یہ سوچا تھا کہ آساں ہے مگر آساں نہیں ہوتا بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا اندھیری کاسنی راتیں یہیں سے ہو کے گزریں گی جلا رکھنا کوئی داغ جگر آساں نہیں ہوتا کسی درد آشنا لمحے کے نقش پا سجا لینا اکیلے گھر کو کہنا اپنا گھر آساں نہیں ہوتا جو ٹپکے کاسۂ دل میں تو عالم ہی بدل جائے وہ اک آنسو مگر اے چشم تر آساں نہیں ہوتا گماں تو کیا یقیں بھی وسوسوں کی زد میں ہوتا ہے سمجھنا سنگ در کو سنگ در آساں نہیں ہوتا نہ بہلاوا نہ سمجھوتا جدائی سی جدائی ہے اداؔ سوچو تو خوشبو کا سفر آساں نہیں ہوتا

— ادا جعفری

نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں

نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں میں بجھتے بجھتے بھی پیراہن شرر میں رہوں میں خود ہی روز تمنا میں آپ شام فراق عجب نہیں جو اکیلی بھرے نگر میں رہوں سلگ اٹھی تو اندھیروں کا رکھ لیا ہے بھرم جو روشنی ہوں تو کیوں چشم نوحہ گر میں رہوں تمام عمر سفر میں گزار دوں اپنی تمام عمر تمنائے رہ گزر میں رہوں لکھا گیا مجھے آواز خامشی کی طرح خود اپنا عکس بنوں سایۂ ہنر میں رہوں وہ تشنگی تھی کہ شبنم کو ہونٹ ترسے ہیں وہ آب ہوں کہ مقید گہر گہر میں رہوں اداؔ میں نکہت گل بھی نہ تھی صبا بھی نہ تھی کہ میہماں سی رہوں اور اپنے گھر میں رہوں

— ادا جعفری