سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا
اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا ہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتا جو آنکھوں اوٹ ہے چہرہ اسی کو دیکھ کر جینا یہ سوچا تھا کہ آساں ہے مگر آساں نہیں ہوتا بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا اندھیری کاسنی راتیں یہیں سے ہو کے گزریں گی جلا رکھنا کوئی داغ جگر آساں نہیں ہوتا کسی درد آشنا لمحے کے نقش پا سجا لینا اکیلے گھر کو کہنا اپنا گھر آساں نہیں ہوتا جو ٹپکے کاسۂ دل میں تو عالم ہی بدل جائے وہ اک آنسو مگر اے چشم تر آساں نہیں ہوتا گماں تو کیا یقیں بھی وسوسوں کی زد میں ہوتا ہے سمجھنا سنگ در کو سنگ در آساں نہیں ہوتا نہ بہلاوا نہ سمجھوتا جدائی سی جدائی ہے اداؔ سوچو تو خوشبو کا سفر آساں نہیں ہوتا
نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں
نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں میں بجھتے بجھتے بھی پیراہن شرر میں رہوں میں خود ہی روز تمنا میں آپ شام فراق عجب نہیں جو اکیلی بھرے نگر میں رہوں سلگ اٹھی تو اندھیروں کا رکھ لیا ہے بھرم جو روشنی ہوں تو کیوں چشم نوحہ گر میں رہوں تمام عمر سفر میں گزار دوں اپنی تمام عمر تمنائے رہ گزر میں رہوں لکھا گیا مجھے آواز خامشی کی طرح خود اپنا عکس بنوں سایۂ ہنر میں رہوں وہ تشنگی تھی کہ شبنم کو ہونٹ ترسے ہیں وہ آب ہوں کہ مقید گہر گہر میں رہوں اداؔ میں نکہت گل بھی نہ تھی صبا بھی نہ تھی کہ میہماں سی رہوں اور اپنے گھر میں رہوں