سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
وہی ناصبوریِ آرزو ، وہی نقشِ پا، وہی جادہ ہے
وہی ناصبوریِ آرزو ، وہی نقشِ پا ، وہی جادہ ہے کوئی سنگِ رہ کو خبر کرو ، اُسی آستاں کا ارادہ ہے وہی اشکِ خوں کے گلاب ہیں ، وہی خار خار ہے پیرہن نہ کرم کی آس بجھی ابھی ، نہ ستم کی دُھوپ زیادہ ہے ابھی روشنی کی لکیر سی سرِ رہ گزار ہے جاں بلب کسی دل کی آس مٹی نہیں ، کہیں اک دریچہ کشادہ ہے تنِ زخم زخم کو چھوڑ دے ، مرے چارہ گر ، مرے مہرباں دل داغ داغ کا حوصلہ تری مرحمت سے زیادہ ہے جونظر بچا کے گزر گئے تو نہ آسکو گے پلٹ کے تم بڑی محترم ہے یہ بے بسی کہ خلوصِ جاں کا لبادہ ہے یہی زندگی ہے بری بھلی ، یہ کشیدہ سر ، یہ برہنہ پا نہ غبارِ راہ سے مضمحل ، نہ سکونِ جاں کا اعادہ ہے مرا افتخارِ وفا تلک مجھے راس آ نہ سکا اداؔ ترا نام جس پہ لکھا رہا ، وہ کتاب آج بھی سادہ ہے
اعتذار
تم سمجھتی ہو یہ گلدان میں ہنستے ہوئے پھول میری افسردگئ دل کو مٹا ہی دیں گے یہ حسیں پھول کہ ہیں جان گلستان بہار میرے سوئے ہوئے نغموں کو جگا ہی دیں گے تم نے دیکھی ہیں دمکتی ہوئی شمعیں لیکن تم نے دیکھے نہیں بجھتے ہوئے دیپک ہمدم وہی دیپک جو نگاہوں کا سہارا پا کر ایک لمحے کے لئے جلتے ہیں بجھ جاتے ہیں کبھی اک اشک سے دھل جاتے ہیں صدیوں کے غبار کائنات اور نکھر اور سنور جاتی ہے کبھی ناکام تمنا کی صدائے مبہم قہقہہ بن کے فضاؤں میں بکھر جاتی ہے ٹوٹتے تاروں کے سنگیت سنے ہیں تم نے وہ بھی نغمے ہیں جو ہونٹوں سے گریزاں ہی رہے پھڑپھڑاتے ہوئے دیکھے ہیں فضاؤں میں کبھی وہ فسانے جو نگاہوں سے بیاں ہو نہ سکے کبھی کانٹوں سے بہل جاتی ہے روح غمگیں اور معصوم شگوفوں کی رسیلی خوشبو نیشتر بن کے رگ جاں میں اتر جاتی ہے ہاں یہی پھول یہی جان گلستان بہار ناگ بن کر کبھی احساس کو ڈس لیتے ہیں
ایک موہوم اضطراب سا ہے
ایک موہوم اضطراب سا ہے اک تلاطم سا پیچ و تاب سا ہے امڈے آتے ہیں خودبخود آنسو دل پہ قابو نہ آنکھ پر قابو دل میں اک درد میٹھا میٹھا سا رنگ چہرے کا پھیکا پھیکا سا زلف بکھری ہوئی پریشاں حال آپ ہی آپ جی ہوا ہے نڈھال سینے میں اک چبھن سی ہوتی ہے آنکھوں میں کیوں جلن سی ہوتی ہے سر میں پنہاں تصور موہوم ہاے یہ آرزوے نامعلوم ایک نالہ سا ہے بغیر آواز ایک ہلچل سی ہے نہ سوز نہ ساز کیوں یہ حالت ہے بے قراری کی سانس بھی کھل کے آ نہیں سکتی روح میں انتشار سا کیا ہے دل کو یہ انتظار سا کیا ہے