سپیکرز
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہا
کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہا مری رات بھی ترے نام تھی اسے کس نے تیرہ شبی کہا مرے روز و شب بھی عجیب تھے نہ شمار تھا نہ حساب تھا کبھی عمر بھر کی خبر نہ تھی کبھی ایک پل کو صدی کہا مجھے جانتا بھی کوئی نہ تھا مرے بے نیاز ترے سوا نہ شکست دل نہ شکست جاں کہ تری خوشی کو خوشی کہا کوئی یاد آ بھی گئی تو کیا کوئی زخم کھل بھی اٹھا تو کیا جو صبا قریب سے ہو چلی اسے منتوں کی گھڑی کہا بھری دوپہر میں جو پاس تھی وہ ترے خیال کی چھاؤں تھی کبھی شاخ گل سے مثال دی کبھی اس کو سرو سہی کہا کہیں سنگ رہ کہیں سنگ در کہ میں پتھروں کے نگر میں ہوں یہ نہیں کہ دل کو خبر نہ تھی یہ بتا کہ منہ سے کبھی کہا مرے حرف حرف کے ہاتھ میں سبھی آئنوں کی ہیں کرچیاں جو زباں سے ہو نہ سکا اداؔ بہ حدود بے سخنی کہا
نقش بر آب
سال ہا سال محبت جو بُنا کرتی ہے رشتۂ قلب و نظر پیلۂ ریشم کی طرح ایک جھونکا بھی حوادث کا اسے کافی ہے پہلوئے گُل میں دھڑکتی ہوئی شبنم کی طرح یہ محبت کے بنائے ہوئے ایوان بلند ایک ٹھوکر بھی زمانے کی نہیں سہہ سکتے آبگینے یہ بہت نازک و نارستہ ہیں موج کی گود میں تادیر نہیں رہ سکتے گرم رفتار سبک سیر کے رہوارِ حیات آرزوؤں کے گھروندے کو یہ ڈھا دے نہ کہیں تلخ تر جام کے ہاتھوں میں نظامِ نو کے خوابِ نوشیں کی حلاوت کو مٹادے نہ کہیں عشق کے ہاتھ میں روشن ہے جو ننھا سا دیا عقل کی تند ہوا اس کو بجھا ہی دے گی تو نے دیکھی ہی نہیں پنجۂ عسرت کی گرفت روح کو قیدِ تمنا سے چھڑا ہی دے گی گل ہی جائے گی کسی روز جنوں کی زنجیر وقت ہر خواب کی تعبیر بتا دیتا ہے کروٹیں لیتا ہے احساس جو بیداری کا لوریاں دے کے امنگوں کو سلا دیتا ہے نقش بر آب ہے وابستگیٔ حسن و شباب نکہتِ گل کی طرح عشق ہے پابندِ ہوا اس سے بہتر تھا کہ مجھ سے تجھے نفرت ہوتی پھول مرجھاتے ہیں کانٹا نہیں مرجھا سکتا تیر نفرت کا رہا کرتا ہے دل میں پیوست شمع یہ تیرگیٔ غم میں تابندہ رہے دستِ نفرت کی بنائی ہوئی دیوار اداؔ سنگ و آہن کی طرح پختہ و پائندہ رہے عزم ہوجائیں گے افسردہ، ارادے مفلوج گوش لذتِ کشِ گلبانگِ جلاجل کیوں ہو منزلیں اور بھی کتنی ہیں محبت کے سوا روحِ آزاد گرفتارِ سلاسل کیوں ہو!