مظفر وارثی

شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)

18 December 2025

27سپیکرز
288لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے

دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے ظرف مردہ ہو تو سچائی کہاں سے آئے پیار تعمیر ہو جب بغض کی بنیادوں پر ملتی نظروں میں شناسائی کہاں سے آئے گم ہیں رنگوں میں خد و خال بھی تصویروں کے پس پردہ کا تماشائی کہاں سے آئے میری ہر سوچ کے رستے میں کھڑا ہے کوئی آئینہ خانے میں تنہائی کہاں سے آئے میری آواز خموشی نے مجھے لوٹا دی مجھ میں اب جرأت گویائی کہاں سے آئے کوئی بھی دیکھنا چاہے نہ کسی کو زندہ خوں کے پیاسوں میں مسیحائی کہاں سے آئے اس قدر شوق در آمد ہے مظفرؔ ہم کو سوچتے رہتے ہیں رسوائی کہاں سے آئے

— مظفر وارثی

آپ محبوب خدا یا مصطفیٰ

آپ محبوب خدا یا مصطفیٰ ہو گیا دل آپ کا یا مصطفیٰ وہ حقیقت میں کہا اللہ نے آپ نے جو کچھ کہا یا مصطفیٰ آپ پر اور آپ کے فرمان پر جان و دل سے ہم فدا یا مصطفیٰ آپ کے نقش قدم پر ہم چلیں آپ سب کے رہنما یا مصطفیٰ والیان ملک سلطاں تاجور آپ کے در کے گدا یا مصطفیٰ امتوں میں افضل امت آپ کی آپ شاہ انبیا یا مصطفیٰ دین حق کی آپ نے تعلیم دی آپ حق ہیں حق نما یا مصطفیٰ آپ ہی نے تو کیا انسان کو خود نگر خود آشنا یا مصطفیٰ آپ پر ہیں ختم ساری عظمتیں تھا نہ ہوگا آپ سا یا مصطفیٰ ہر گھڑی میں آپ پر بھیجوں درود دل کہے صل علیٰ یا مصطفیٰ

— مظفر وارثی