سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے
دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے ظرف مردہ ہو تو سچائی کہاں سے آئے پیار تعمیر ہو جب بغض کی بنیادوں پر ملتی نظروں میں شناسائی کہاں سے آئے گم ہیں رنگوں میں خد و خال بھی تصویروں کے پس پردہ کا تماشائی کہاں سے آئے میری ہر سوچ کے رستے میں کھڑا ہے کوئی آئینہ خانے میں تنہائی کہاں سے آئے میری آواز خموشی نے مجھے لوٹا دی مجھ میں اب جرأت گویائی کہاں سے آئے کوئی بھی دیکھنا چاہے نہ کسی کو زندہ خوں کے پیاسوں میں مسیحائی کہاں سے آئے اس قدر شوق در آمد ہے مظفرؔ ہم کو سوچتے رہتے ہیں رسوائی کہاں سے آئے
آپ محبوب خدا یا مصطفیٰ
آپ محبوب خدا یا مصطفیٰ ہو گیا دل آپ کا یا مصطفیٰ وہ حقیقت میں کہا اللہ نے آپ نے جو کچھ کہا یا مصطفیٰ آپ پر اور آپ کے فرمان پر جان و دل سے ہم فدا یا مصطفیٰ آپ کے نقش قدم پر ہم چلیں آپ سب کے رہنما یا مصطفیٰ والیان ملک سلطاں تاجور آپ کے در کے گدا یا مصطفیٰ امتوں میں افضل امت آپ کی آپ شاہ انبیا یا مصطفیٰ دین حق کی آپ نے تعلیم دی آپ حق ہیں حق نما یا مصطفیٰ آپ ہی نے تو کیا انسان کو خود نگر خود آشنا یا مصطفیٰ آپ پر ہیں ختم ساری عظمتیں تھا نہ ہوگا آپ سا یا مصطفیٰ ہر گھڑی میں آپ پر بھیجوں درود دل کہے صل علیٰ یا مصطفیٰ