مظفر وارثی

شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)

18 December 2025

27سپیکرز
288لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیں

منتظر رہنا بھی کیا چاہت کا خمیازہ نہیں کان دستک پر لگے ہیں گھر کا دروازہ نہیں ہاتھ پر تو نے مقدر کی لکیریں کھینچ دیں کیا تجھے بھی میرے مستقبل کا اندازہ نہیں دیکھنا چاہوں تو خوشبو، چھونا چاہوں تو ہوا میرے دامن تک جو آئے تو وہ شیرازہ نہیں دفن ہوں احساس کی صدیوں پرانی قبر میں زندگی اک زخم ہے اور زخم بھی تازہ نہیں تم ہی اے خاموشیو پتھر اٹھا لو ہاتھ میں کوئی نغمہ کوئی نالہ کوئی آوازہ نہیں حسن پہچانے گی میرا دیکھنے والی نظر خوں تو ہے آنکھوں میں چہرے پر اگر غازہ نہیں مانگتے ہیں کیوں مظفرؔ لوگ بارش کی دعا تشنگیٔ روح کا جسموں کو اندازہ نہیں

— مظفر وارثی