مظفر وارثی

شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)

18 December 2025

27سپیکرز
288لسنرز

سپیکرز

خوشی کا پیش کردہ کلام

میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا

میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا اس کے بغیر میں بھی کوئی مر نہیں گیا دنیا میں گھوم پھر کے بھی ایسے لگا مجھے جیسے میں اپنی ذات سے باہر نہیں گیا کیا خوب ہیں ہماری ترقی پسندیاں زینے بنا لیے کوئی اوپر نہیں گیا جغرافیے نے کاٹ دیے راستے مرے تاریخ کو گلہ ہے کہ میں گھر نہیں گیا ایسی کوئی عجیب عمارت تھی زندگی باہر سے جھانکتا رہا اندر نہیں گیا ڈالا نہ دوستوں کو کبھی امتحان میں صحرا میں میرے ساتھ سمندر نہیں گیا اس وقت تک سلگتی رہی اس کی آرزو جب تک دھوئیں سے سارا بدن بھر نہیں گیا ذلت کے بھاؤ بک گئیں عزت مآبیاں دستار اس کی جاتی رہی سر نہیں گیا خواہش ہوس کے روپ میں اچھی نہیں لگی دنیا کو فتح کر کے سکندر نہیں گیا کاندھوں پہ اپنے لوگ اسے لے گئے کہاں پیروں سے اپنے چل کے مظفرؔ نہیں گیا

— مظفر وارثی

رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیں

رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیں اک درویش کی قبر پہ جیسے رقاصائیں آتی ہیں سادہ لوحی کی نبٹے گی اس رنگین زمانے سے دو آنکھوں کا پیچھا کرنے لاکھ ادائیں آتی ہیں ڈھونڈھ رہی ہے میرے تن میں شاید میری روح مجھے اپنے سناٹوں سے کچھ مانوس صدائیں آتی ہیں میرا اک اک لمحہ کرب لیے پھرتا ہے صدیوں کا اک دنیا کے رستے میں کتنی دنیائیں آتی ہیں پہلے سر سے اونچی لہروں سے بھی ہم لڑ لیتے تھے اب تو ان سوکھے ہونٹوں پر صرف دعائیں آتی ہیں دشت نوردی کے دوران مظفرؔ سر پر دھوپ رہی جب سے کشتی میں بیٹھے ہیں روز گھٹائیں آتی ہیں

— مظفر وارثی

ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتا

ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتا موجوں کے لئے کوئی کنارا نہیں ہوتا دل ٹوٹ بھی جائے تو محبت نہیں مٹتی اس راہ میں لٹ کر بھی خسارا نہیں ہوتا سرمایۂ شب ہوتے ہیں یوں تو سبھی تارے ہر تارہ مگر صبح کا تارا نہیں ہوتا اشکوں سے کہیں مٹتا ہے احساس تلون پانی میں جو گھل جائے وہ پارا نہیں ہوتا سونے کی ترازو میں مرا درد نہ تولو امداد سے غیرت کا گزارا نہیں ہوتا تم بھی تو مظفرؔ کی کسی بات پہ بولو شاعر کا ہی لفظوں پہ اجارا نہیں ہوتا

— مظفر وارثی