سپیکرز
خوشی کا پیش کردہ کلام
میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا
میری جدائیوں سے وہ مل کر نہیں گیا اس کے بغیر میں بھی کوئی مر نہیں گیا دنیا میں گھوم پھر کے بھی ایسے لگا مجھے جیسے میں اپنی ذات سے باہر نہیں گیا کیا خوب ہیں ہماری ترقی پسندیاں زینے بنا لیے کوئی اوپر نہیں گیا جغرافیے نے کاٹ دیے راستے مرے تاریخ کو گلہ ہے کہ میں گھر نہیں گیا ایسی کوئی عجیب عمارت تھی زندگی باہر سے جھانکتا رہا اندر نہیں گیا ڈالا نہ دوستوں کو کبھی امتحان میں صحرا میں میرے ساتھ سمندر نہیں گیا اس وقت تک سلگتی رہی اس کی آرزو جب تک دھوئیں سے سارا بدن بھر نہیں گیا ذلت کے بھاؤ بک گئیں عزت مآبیاں دستار اس کی جاتی رہی سر نہیں گیا خواہش ہوس کے روپ میں اچھی نہیں لگی دنیا کو فتح کر کے سکندر نہیں گیا کاندھوں پہ اپنے لوگ اسے لے گئے کہاں پیروں سے اپنے چل کے مظفرؔ نہیں گیا
رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیں
رات گئے یوں دل کو جانے سرد ہوائیں آتی ہیں اک درویش کی قبر پہ جیسے رقاصائیں آتی ہیں سادہ لوحی کی نبٹے گی اس رنگین زمانے سے دو آنکھوں کا پیچھا کرنے لاکھ ادائیں آتی ہیں ڈھونڈھ رہی ہے میرے تن میں شاید میری روح مجھے اپنے سناٹوں سے کچھ مانوس صدائیں آتی ہیں میرا اک اک لمحہ کرب لیے پھرتا ہے صدیوں کا اک دنیا کے رستے میں کتنی دنیائیں آتی ہیں پہلے سر سے اونچی لہروں سے بھی ہم لڑ لیتے تھے اب تو ان سوکھے ہونٹوں پر صرف دعائیں آتی ہیں دشت نوردی کے دوران مظفرؔ سر پر دھوپ رہی جب سے کشتی میں بیٹھے ہیں روز گھٹائیں آتی ہیں
ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتا
ہم کیوں یہ کہیں کوئی ہمارا نہیں ہوتا موجوں کے لئے کوئی کنارا نہیں ہوتا دل ٹوٹ بھی جائے تو محبت نہیں مٹتی اس راہ میں لٹ کر بھی خسارا نہیں ہوتا سرمایۂ شب ہوتے ہیں یوں تو سبھی تارے ہر تارہ مگر صبح کا تارا نہیں ہوتا اشکوں سے کہیں مٹتا ہے احساس تلون پانی میں جو گھل جائے وہ پارا نہیں ہوتا سونے کی ترازو میں مرا درد نہ تولو امداد سے غیرت کا گزارا نہیں ہوتا تم بھی تو مظفرؔ کی کسی بات پہ بولو شاعر کا ہی لفظوں پہ اجارا نہیں ہوتا