مظفر وارثی

شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)

18 December 2025

27سپیکرز
288لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا

ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا دیوار سے بھونچال کو روکا نہیں جاتا دعووں کے ترازو میں تو عظمت نہیں تُلتی فیتے سے تو کردار کو ناپا نہیں جاتا فرمان سے پیڑوں پہ کبھی پھل نہیں لگتے تلوار سے موسم کوئی بدلا نہیں جاتا چور اپنے گھروں میں تو نہیں نقب لگاتے اپنی ہی کمائی کو تو لُوٹا نہیں جاتا اوروں کے خیالات کی لیتے ہیں تلاشی اور اپنے گریبانوں میں جھانکا نہیں جاتا فولاد سے فولاد تو کٹ سکتا ہے لیکن قانون کو قانون سےبدلا نہیں جاتا ظلمت کو گھٹا کہنے سے بارش نہیں ہوتی شعلوں کو ہواؤں سے تو ڈھانپا نہیں جاتا طوفان میں ہو ناؤ تو کچھ صبر بھی آئے ساحل پہ کھڑے ہو کے تو ڈوبا نہیں جاتا دریا کے کنارے تو پہنچ جاتے ہیں پیاسے پیاسوں کے گھروں تک کوئی دریا نہیں جاتا اللہ جسے چاہے اُسے ملتی ہے مظفر عزت کو دوکانوں سے خریدا نہیں جاتا

— مظفر وارثی

شعلہ ہوں، بھڑکنے کی گزارش نہيں کرتا

شعلہ ہوں، بھڑکنے کی گزارش نہيں کرتا سچ منہ سے نکل جاتا ہے، کوشش نہيں کرتا گرتی ہوئی ديوار کا ہمدرد ہوں، ليکن چڑھتے ہوئے سورج کی پرستش نہيں کرتا ماتھے کے پسينے کی مہک آئے تو ديکھيں وہ خون ميرے جسم ميں گردش نہيں کرتا ہمدردی ِ احباب سے ڈرتا ہوں مظفر ميں زخم تو رکھتا ہوں نمائش نہيں کرتا

— مظفر وارثی