سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیں
سفر بھی دور کا ہے راہ آشنا بھی ہیں چلا ادھر کو ہوں جس سمت کی ہوا بھی نہیں گزر رہا ہوں قدم رکھ کے اپنی آنکھوں پر گئے دنوں کی طرف مڑ کے دیکھتا بھی نہیں مرا وجود مری زندگی کی حد نہ سہی کبھی جو طے ہی نہ ہو میں وہ فاصلہ بھی نہیں فضا میں پھیل چلی میری بات کی خوشبو ابھی تو میں نے ہواؤں سے کچھ کہا بھی نہیں سمجھ رہا ہوں مظفرؔ اسے شریک سفر جو میرے ساتھ قدم دو قدم چلا بھی نہیں
خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی
خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی آئنہ تو صاف ہے تصویر دھندلی ہو گئی سانس لیتا ہوں تو چبھتی ہیں بدن میں ہڈیاں روح بھی شاید مری اب مجھ سے باغی ہو گئی فاش کر دیں میں نے خود اندر کی بے ترتیبیاں زندگی آرائشوں میں اور ننگی ہو گئی پیار کرتی ہیں مرے رستوں سے کیا کیا بندشیں توڑ دی زنجیر تو دیوار اونچی ہو گئی میری جانب آئے پس منظر سے پتھر بے شمار رنگ دنیا دیکھ کر بینائی زخمی ہو گئی پڑ گیا پردہ سماعت پر تری آواز کا ایک آہٹ کتنے ہنگاموں پہ حاوی ہو گئی کر گیا ہے مبتلائے کرب اور اک سانحہ اور کچھ دن زندہ رہنے کی تلافی ہو گئی خواہشوں کی آگ بھی بھڑکائے گی اب کیا مجھے راکھ بھی میری مظفرؔ اب تو ٹھنڈی ہو گئی
سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے
سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے ہمیں جینا بہت مہنگا پڑا ہے رقم تھیں اپنے چہرے پرخراشیں میں سمجھا آئینہ ٹوٹا پڑا ہے یہ کیسی روشنی تھی میرے اندر کہ مجھ پر دھوپ کا سایہ پڑا ہے مری آنکھوں میں تم کیا جھانکتے ہو تہوں میں آنسوؤں کے کیا پڑا ہے حواس و ہوش ہیں بیدار لیکن ضمیر انسان کا سویا پڑا ہے بدن شوقین کم پیراہنی کا در و دیوار پر پردہ پڑا ہے اٹھا تھا زندگی پر ہاتھ میرا گریباں پر خود اپنے جا پڑا ہے محبت آنسوؤں کے گھاٹ لے چل بہت دن سے یہ دل میلا پڑا ہے زمیں ناراض ہے کچھ ہم سے شاید پڑا ہے پاؤں جب الٹا پڑا ہے ڈبو سکتی نہیں دریا کی لہریں ابھی پانی میں اک تنکا پڑا ہے مظفر رونقوں میلوں کا رسیا ہجومِ درد میں تنہا پڑا ہے