مظفر وارثی

شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)

18 December 2025

27سپیکرز
288لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس بولتا جہل ہے بد نام خرد ہوتی ہے کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

— مظفر وارثی

کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملا

کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملا میں تو جگنو کی طرح اپنی ہی مٹھی میں ملا بھاگ نکلا تھا جو طوفاں سے چھڑا کر دامن سر ساحل وہی ڈوبا ہوا کشتی میں ملا آنکھ روشن ہو تو دنیا کے اندھیرے کیا ہیں رستہ مہتاب کو راتوں کی سیاہی میں ملا میں جلاتا رہا تیرے لیے لمحوں کے چراغ تو گزرتا ہوا صدیوں کی سواری میں ملا تو نے منگتوں کو اچٹتی ہوئی نظریں بھی نہ دیں ہاتھ پھیلایا نہ جس نے اسے جھولی میں ملا میں اک آنسو ہی سہی ہوں بہت انمول مگر یوں نہ پلکوں سے گرا کر مجھے مٹی میں ملا محفلوں میں کیا لوگوں نے مظفرؔ کی تلاش وہ بھٹکتا ہوا افکار کی وادی میں ملا

— مظفر وارثی

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے دکھائی بھی جو نہ دے ، نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں ، وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے ، وہی خدا ہے وہی ہے مشرق وہی ہے مغرب ، سفر کریں سب اُسی کی جانب ہر آئینے میں جو عکس اپنا دکھا رہا ہے ، وہی خدا ہے کسی کو سوچوں نے کب سراہا ، وہی ہوا جو خدا نے چاہا جو اختیارِ بشر پہ پہرے بٹھا رہا ہے ، وہی خدا ہے نظر بھی رکھے ،سماعتیں بھی ، وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی جو خانہء لاشعور میں جگمگا رہا ہے ، وہی خدا ہے کسی کو تاجِ وقار بخشے ، کسی کو ذلت کے غار بخشے جو سب کے ماتھے پہ مہرِ قدرت لگا رہا ہے ، وہی خدا ہے سفید اُس کا سیاہ اُس کا ، نفس نفس ہے گواہ اُس کا جو شعلہء جاں جلا رہا ہے ، بُجھا رہا ہے ، وہی خدا ہے

— مظفر وارثی