سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس بولتا جہل ہے بد نام خرد ہوتی ہے کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے
کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملا
کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملا میں تو جگنو کی طرح اپنی ہی مٹھی میں ملا بھاگ نکلا تھا جو طوفاں سے چھڑا کر دامن سر ساحل وہی ڈوبا ہوا کشتی میں ملا آنکھ روشن ہو تو دنیا کے اندھیرے کیا ہیں رستہ مہتاب کو راتوں کی سیاہی میں ملا میں جلاتا رہا تیرے لیے لمحوں کے چراغ تو گزرتا ہوا صدیوں کی سواری میں ملا تو نے منگتوں کو اچٹتی ہوئی نظریں بھی نہ دیں ہاتھ پھیلایا نہ جس نے اسے جھولی میں ملا میں اک آنسو ہی سہی ہوں بہت انمول مگر یوں نہ پلکوں سے گرا کر مجھے مٹی میں ملا محفلوں میں کیا لوگوں نے مظفرؔ کی تلاش وہ بھٹکتا ہوا افکار کی وادی میں ملا
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے دکھائی بھی جو نہ دے ، نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں ، وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے ، وہی خدا ہے وہی ہے مشرق وہی ہے مغرب ، سفر کریں سب اُسی کی جانب ہر آئینے میں جو عکس اپنا دکھا رہا ہے ، وہی خدا ہے کسی کو سوچوں نے کب سراہا ، وہی ہوا جو خدا نے چاہا جو اختیارِ بشر پہ پہرے بٹھا رہا ہے ، وہی خدا ہے نظر بھی رکھے ،سماعتیں بھی ، وہ جان لیتا ہے نیتیں بھی جو خانہء لاشعور میں جگمگا رہا ہے ، وہی خدا ہے کسی کو تاجِ وقار بخشے ، کسی کو ذلت کے غار بخشے جو سب کے ماتھے پہ مہرِ قدرت لگا رہا ہے ، وہی خدا ہے سفید اُس کا سیاہ اُس کا ، نفس نفس ہے گواہ اُس کا جو شعلہء جاں جلا رہا ہے ، بُجھا رہا ہے ، وہی خدا ہے