مظفر وارثی

شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)

18 December 2025

27سپیکرز
288لسنرز

سپیکرز

واجد علی کا پیش کردہ کلام

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس بولتا جہل ہے بد نام خرد ہوتی ہے کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

— مظفر وارثی

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا لباس غیر نہ ہوگا بدن پہ جب اپنے تو کوئی سانپ نہ پھر آستیں سے نکلے گا جو آسمانوں میں بانٹے گا روشنی اپنی وہ آفتاب اسی سرزمیں سے نکلے گا وطن کی ریت ذرا ایڑیاں رگڑنے دے مجھے یقیں ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا مقابلہ تو مظفرؔ کروں اندھیروں سے چراغ بن کے پسینہ جبیں سے نکلے گا

— مظفر وارثی