سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
سحربیاں
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
آزاد
احمد
احمد
ارمان
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
ثاقب فردوس
حرااعوان
حسین بلوچ
خوشی
راجا اکرام قمر
راشد نور
ریبل
زین چوہدری
سجاد رضا
سید جینٹلمین
طارق
فخر
کریسنٹ
ملک
نایاب
ندیم بخاری
واجد علی
وقاراحسن
یادرفتگان
واجد علی کا پیش کردہ کلام
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس بولتا جہل ہے بد نام خرد ہوتی ہے کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا لباس غیر نہ ہوگا بدن پہ جب اپنے تو کوئی سانپ نہ پھر آستیں سے نکلے گا جو آسمانوں میں بانٹے گا روشنی اپنی وہ آفتاب اسی سرزمیں سے نکلے گا وطن کی ریت ذرا ایڑیاں رگڑنے دے مجھے یقیں ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا مقابلہ تو مظفرؔ کروں اندھیروں سے چراغ بن کے پسینہ جبیں سے نکلے گا