مظفر وارثی

شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)

18 December 2025

27سپیکرز
288لسنرز

سپیکرز

راشد نور کا پیش کردہ کلام

کربلا

لبوں پہ الفاظ ہیں کہ پیاسوں کا قافلہ ہے نمی ہے یہ یا فرات آنکھوں سے بہہ رہی ہے حیات آنکھوں سے بہہ رہی ہے سپاہ فسق و فجور یلغار کر رہی ہے دلوں کو مسمار کر رہی ہے لہو لہو ہیں ہماری سوچیں برہنہ سر ہے حیا تمنائیں بال نوچیں وفا کے بازو کٹے ہوئے ہیں ہلاکتوں کے غبار سے زندگی کے میداں پٹے ہوئے ہیں دھواں ہر اک خیمۂ صدا سے نکل رہا ہے ہر ایک اندر سے جل رہا ہے ریا کے نیزوں پہ آج سچائیوں کے سر ہیں یزیدیت کے اصول اپنے عروج پر ہیں بڑی ہی ظالم ہے حق پسندی کو چین لینے نہ دے یہ دنیا ہمیں تو کوفہ لگے یہ دنیا قدم قدم آزمائشوں کی فضا ملی ہے ہمیں تو ہر دور میں نئی کربلا ملی ہے

— مظفر وارثی