مظفر وارثی

شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)

18 December 2025

27سپیکرز
288لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا

یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا ہمارا سچ بھی عدالت کو باغیانہ لگا ہمارے خون سے بھی اس کی خوشبوئیں پھوٹیں ہمیں تو قتل بھی کر کے وہ بے وفا نہ لگا لگائی آگ بھی اس اہتمام سے اس نے ہمارا جلتا ہوا گھر نگار خانہ لگا ہم اتنا روح کی گہرائیوں کے عادی تھے کہ ڈوبتا ہوا دل ڈوبتا ہوا نہ لگا یہ خام مال ملے گا بہت ہی کم داموں لہو ہو جس کی ضرورت وہ کارخانہ لگا کسی بھی شخص سے جب اس کی خیریت پوچھی تو اپنا لہجۂ پرسش بھی تازیانہ لگا یہ کون لوگ مظفرؔ کی کر رہے تھے برائی ملے ہیں ہم بھی بہت ہم کو وہ برا نہ لگا

— مظفر وارثی

میری سوچ مجھے کس رتبے پر لے آئی

میری سوچ مجھے کس رتبے پر لے آئی دائرۂ ہستی اک نقطے پر لے آئی جب دنیا کو میں نے کور نظر ٹھہرایا میری آنکھیں اپنے چہرے پر لے آئی میں تو اک سیدھی پگڈنڈی پر نکلا تھا پگڈنڈی مجھ کو چوراہے پر لے آئی یوں محسوس ہوا اپنی گہرائی میں جا کر جیسے کوئی موج کنارے پر لے آئی صحرا میں بھی دیواریں سی پھاند رہا ہوں بینائی کس اندھے رستے پر لے آئی میں نے نوچ کے پھینکیں جو شکنیں چادر سے وہ سب شکنیں دنیا ماتھے پر لے آئی کاہکشاں کے خواب مظفرؔ دیکھ رہا تھا اور بیداری ریت کے ٹیلے پر لے آئی

— مظفر وارثی