سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا
یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا ہمارا سچ بھی عدالت کو باغیانہ لگا ہمارے خون سے بھی اس کی خوشبوئیں پھوٹیں ہمیں تو قتل بھی کر کے وہ بے وفا نہ لگا لگائی آگ بھی اس اہتمام سے اس نے ہمارا جلتا ہوا گھر نگار خانہ لگا ہم اتنا روح کی گہرائیوں کے عادی تھے کہ ڈوبتا ہوا دل ڈوبتا ہوا نہ لگا یہ خام مال ملے گا بہت ہی کم داموں لہو ہو جس کی ضرورت وہ کارخانہ لگا کسی بھی شخص سے جب اس کی خیریت پوچھی تو اپنا لہجۂ پرسش بھی تازیانہ لگا یہ کون لوگ مظفرؔ کی کر رہے تھے برائی ملے ہیں ہم بھی بہت ہم کو وہ برا نہ لگا
میری سوچ مجھے کس رتبے پر لے آئی
میری سوچ مجھے کس رتبے پر لے آئی دائرۂ ہستی اک نقطے پر لے آئی جب دنیا کو میں نے کور نظر ٹھہرایا میری آنکھیں اپنے چہرے پر لے آئی میں تو اک سیدھی پگڈنڈی پر نکلا تھا پگڈنڈی مجھ کو چوراہے پر لے آئی یوں محسوس ہوا اپنی گہرائی میں جا کر جیسے کوئی موج کنارے پر لے آئی صحرا میں بھی دیواریں سی پھاند رہا ہوں بینائی کس اندھے رستے پر لے آئی میں نے نوچ کے پھینکیں جو شکنیں چادر سے وہ سب شکنیں دنیا ماتھے پر لے آئی کاہکشاں کے خواب مظفرؔ دیکھ رہا تھا اور بیداری ریت کے ٹیلے پر لے آئی