سپیکرز
آدرش کا پیش کردہ کلام
وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی
وہ نہ آئیں تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی اُس کی خوشبُو بھی اکیلی نہیں آیا کرتی ہم تو آنسو ہیں خاک میں مِل جانا ہے میتّوں کیلئے ڈولی نہیں آیا کرتی بستر ہجر پہ سویا نہیں جاتا اکثر نیند آتی تو ہے گہری نہیں آیا کرتی الل اعلان کِیا کرتا ہوں سچی باتیں چور دروازے سے آندھی نہیں آیا کرتی صرف رنگوں سے کبھی رس نہیں ٹپکا کرتا کاغذی پُھول پہ تتِلی نہیں آیا کرتی عشق کرتے ہو تو آلودہء شکوہ کیوں ہو ؟ شہد کے لہجے میں تلخی نہیں آیا کرتی موت نے یاد کیا ہے کہ مظفر اُس نے اپنی مرضی سے تو ہچکی نہیں آیا کرتی
میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیں
میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیں گھیر لیں مجھ کو سب آنکھیں، میں تماشا تو نہیں زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں شوق جینے کا ہے مجھ کو، مگر اتنا تو نہیں روح کو درد مِلا، درد کو آنکھیں نہ مِلیں تجھ کو محسوس کِیا ہے، تجھے دیکھا تو نہیں سوچتے سوچتے دل ڈوبنے لگتا ہے مرا ذہن کی تہہ میں مظفر کوئی دریا تو نہیں