مظفر وارثی

شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)

18 December 2025

27سپیکرز
288لسنرز

سپیکرز

احمد کا پیش کردہ کلام

مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں

مانا کہ مشت خاک سے بڑھ کر نہیں ہوں میں لیکن ہوا کے رحم و کرم پر نہیں ہوں میں انسان ہوں دھڑکتے ہوئے دل پہ ہاتھ رکھ یوں ڈوب کر نہ دیکھ سمندر نہیں ہوں میں چہرے پہ مل رہا ہوں سیاہی نصیب کی آئینہ ہاتھ میں ہے سکندر نہیں ہوں میں وہ لہر ہوں جو پیاس بجھائے زمین کی چمکے جو آسماں پہ وہ پتھر نہیں ہوں میں غالبؔ تری زمین میں لکھی تو ہے غزل تیرے قد سخن کے برابر نہیں ہوں میں لفظوں نے پی لیا ہے مظفرؔ مرا لہو ہنگامہ صدا ہوں سخن ور نہیں ہوں میں

— مظفر وارثی