سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا زخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر ڈوب کر بھی ترے دریا سے میں پیاسا نکلا جب کبھی تجھ کو پکارا مری تنہائی نے بو اڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا کوئی ملتا ہے تو اب اپنا پتہ پوچھتا ہوں میں تری کھوج میں تجھ سے بھی پرے جا نکلا مجھ سے چھپتا ہی رہا تو مجھے آنکھیں دے کر میں ہی پردہ تھا اٹھا میں تو تماشا نکلا توڑ کر دیکھ لیا آئینۂ دل تو نے تیری صورت کے سوا اور بتا کیا نکلا نظر آیا تھا سر بام مظفرؔ کوئی پہنچا دیوار کے نزدیک تو سایا نکلا
اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے
اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے جسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے سوچتا ہوں کہ اب انجام سفر کیا ہوگا لوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے شدت کرب میں ہنسنا تو ہنر ہے میرا ہاتھ ہی سخت ہیں زنجیر کہاں ڈھیلی ہے گرد آنکھوں میں سہی داغ تو چہرے پہ نہیں لفظ دھندلے ہیں مگر فکر تو چمکیلی ہے گھول دیتا ہے سماعت میں وہ میٹھا لہجہ کس کو معلوم کہ یہ قند بھی زہریلی ہے پہلے رگ رگ سے مری خون نچوڑا اس نے اب یہ کہتا ہے کہ رنگت ہی مری پیلی ہے مجھ کو بے رنگ ہی کر دیں نہ کہیں رنگ اتنے سبز موسم ہے ہوا سرخ فضا نیلی ہے میری پرواز کسی کو نہیں بھاتی تو نہ بھائے کیا کروں ذہن مظفرؔ مرا جبریلی ہے