مظفر وارثی

شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)

18 December 2025

27سپیکرز
288لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا

کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا زخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر ڈوب کر بھی ترے دریا سے میں پیاسا نکلا جب کبھی تجھ کو پکارا مری تنہائی نے بو اڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا کوئی ملتا ہے تو اب اپنا پتہ پوچھتا ہوں میں تری کھوج میں تجھ سے بھی پرے جا نکلا مجھ سے چھپتا ہی رہا تو مجھے آنکھیں دے کر میں ہی پردہ تھا اٹھا میں تو تماشا نکلا توڑ کر دیکھ لیا آئینۂ دل تو نے تیری صورت کے سوا اور بتا کیا نکلا نظر آیا تھا سر بام مظفرؔ کوئی پہنچا دیوار کے نزدیک تو سایا نکلا

— مظفر وارثی

اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے

اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے جسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے سوچتا ہوں کہ اب انجام سفر کیا ہوگا لوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے شدت کرب میں ہنسنا تو ہنر ہے میرا ہاتھ ہی سخت ہیں زنجیر کہاں ڈھیلی ہے گرد آنکھوں میں سہی داغ تو چہرے پہ نہیں لفظ دھندلے ہیں مگر فکر تو چمکیلی ہے گھول دیتا ہے سماعت میں وہ میٹھا لہجہ کس کو معلوم کہ یہ قند بھی زہریلی ہے پہلے رگ رگ سے مری خون نچوڑا اس نے اب یہ کہتا ہے کہ رنگت ہی مری پیلی ہے مجھ کو بے رنگ ہی کر دیں نہ کہیں رنگ اتنے سبز موسم ہے ہوا سرخ فضا نیلی ہے میری پرواز کسی کو نہیں بھاتی تو نہ بھائے کیا کروں ذہن مظفرؔ مرا جبریلی ہے

— مظفر وارثی