مظفر وارثی

شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)

18 December 2025

27سپیکرز
288لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیں

آدمی چونک چکا ہے مگر اٹھا تو نہیں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں یہ وہ دنیا تو نہیں روح کو درد ملا درد کو آنکھیں نہ ملیں تجھ کو محسوس کیا ہے تجھے دیکھا تو نہیں رنگ سی شکل ملی ہے تجھے خوشبو سا مزاج لالہ و گل کہیں تیرا ہی سراپا تو نہیں چہرہ دیکھوں تو خد و خال بدل جاتے ہی چھپ کے آئینے کے پیچھے کوئی بیٹھا تو نہیں پھینک کر مار زمیں پر نہ زمانے مجھ کو ٹوٹ ہی جاؤں گا جیسے میں کھلونا تو نہیں زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں شوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا تو نہیں میری آنکھوں میں ترے نقش قدم کیسے ہیں اس سرائے میں مسافر کوئی ٹھہرا تو نہیں سوچتے سوچتے دل ڈوبنے لگتا ہے مرا ذہن کی تہ میں مظفرؔ کوئی دریا تو نہیں

— مظفر وارثی