سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
وہ نہ آئے تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی
وہ نہ آئے تو ہوا بھی نہیں آیا کرتی اس کی خوشبو بھی اکیلی نہیں آیا کرتی ہم تو آنسو ہیں ہمیں خاک میں مل جانا ہے میتوں کے لیے ڈولی نہیں آیا کرتی بسترِ ہجر پہ سویا نہیں جاتا اکثر نیند آتی تو ہے، گہری نہیں آیا کرتی علی الاعلان کیا کرتا ہوں سچی باتیں چور دروازے سے آندھی نہیں آیا کرتی صرف رنگوں سے کبھی رس نہی ٹپکا کرتا کاغذی پھول پہ تتلی نہیں آیا کرتی عشق کرتے ہو تو آلودۂ شکوہ کیوں ہو شہد کے لہجے میں تلخی نہیں آیا کرتی موت نے یاد کیا ہے کہ مظفر اس نے؟ اپنی مرضی سے تو ہچکی نہیں آیا کرتی
لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا
لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا تو ٹوٹ ٹوٹ گیا خود سے رابطہ میرا سماعتوں میں یہ کیسی مٹھاس گھلتی رہی تمام عمر رہا تلخ ذائقہ میرا چٹخ گیا ہوں میں اپنے ہی ہاتھ سے گر کر مرے ہی عکس نے توڑا ہے آئنہ میرا کیا گیا تھا کبھی مجھ کو سنگسار جہاں وہیں لگایا گیا ہے مجسمہ میرا جبھی تو عمر سے اپنی زیادہ لگتا ہوں بڑا ہے مجھ سے کئی سال تجربہ میرا عداوتوں نے مجھے اعتماد بخشا ہے محبتوں نے تو کاٹا ہے راستہ میرا میں اپنے گھر میں ہوں گھر سے گئے ہوؤں کی طرح مرے ہی سامنے ہوتا ہے تذکرہ میرا میں لٹ گیا ہوں مظفرؔ حیات کے ہاتھوں سنے گی کس کی عدالت مقدمہ میرا