سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے
چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے اک موڑ پر تمام زمانے لگے مجھے تنہا میں جل رہا تھا تو خوش ہو رہے تھے لوگ ان تک گئی جو آگ، بجھانے لگےمجھے آنکھوں میں جھانکنے کی ضرورت نہیں پڑی چہروں کے خول آئینہ خانے لگے مجھے اپنی طرف جو دیکھ لیا ان کو دیکھ کر آنسو، چراغ، زخم، خزانے لگے مجھے دروازے پر جو ان کے میں جا بیٹھا ایک دن دیوار کی طرح وہ اٹھا نے لگے مجھے ظالم کا ہاتھ جب میری دستار پر پڑا دنیا کے پاؤں اپنے سر آنے لگے مجھے سچائیوں کا زہر میں پینے چلا تو ہوں یہ زہر پی کے نیند نہ آنے لگے مجھے آیا یہ کیسا خول چڑھا کر ستم ظریف اندر کے داغ بھی نظر آنے لگے مجھے رکھا نہ میری موت کا بھی غم سنبھال کر آنکھوں سے اپنے لوگ بہانے لگے مجھے ٹپکا لہو تو ظلم کی تصویر بن گئی ظالم اسے پلٹ کے دکھانے لگے مجھے اونچا ہو میرا سر یہ کوئی چاہتا نہ تھا سُولی پہ بھی چڑھا تو گِرانے لگے مجھے مانگے ہوئے حریر و جواہر کی سیج پر سونے لگا تو پاؤں سرہانے لگے مجھے مجھ سے ملے بغیر مظفر جو تھے خفا میں ان سے مل لیا تو منانے لگے مجھے
زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہوا
زخم دل اور ہرا خون تمنا سے ہوا تشنگی کا مری آغاز ہی دریا سے ہوا چبھ گئی حلق میں کانٹوں کی طرح پیاس مری دشت سیراب مرے آبلۂ پا سے ہوا دل زندہ کو چنا درد کی دیواروں میں روک لیتی مجھے اتنا بھی نہ دنیا سے ہوا سر میں سودا تھا مگر پاؤں میں زنجیر نہ تھی خاک اڑاتا رہا منسوب نہ صحرا سے ہوا پھیر دیں کس نے سلاخیں سی مری آنکھوں میں کون انگشت نما طاق تماشا سے ہوا دور جا کر مری آواز سنی دنیا نے فن اجاگر مرا آئینۂ فردا سے ہوا بو مزاجوں سے گئی رنگ اڑے چہروں کے خوش یہاں کون مرے دیدۂ بینا سے ہوا اجنبی سا نظر آیا ہوں مظفرؔ خود کو بے تکلف جو میں اس عہد شناسا سے ہوا