سپیکرز
ریبل کا پیش کردہ کلام
سایا کوئی میں اپنے ہی پیکر سے نکالوں
سایا کوئی میں اپنے ہی پیکر سے نکالوں تنہائی بتا کیسے تجھے گھر سے نکالوں اک موج بھی مل جائے اگر مجھ کو صلے میں گرتے ہوئے دریا کو سمندر سے نکالوں تیشے سے بجاتا پھروں میں بربط کہسار نغمے جو مرے دل میں ہیں پتھر سے نکالوں لو تیز نہیں کچھ مری آنکھوں ہی کی شاید مطلب یہی بے نوریٔ منظر سے نکالوں بدلے نہ کوئی رنگ ترا حسن خموشی میں بات کے پہلو ترے تیور سے نکالوں توبہ نے جگایا مرے اندر کا شرابی اب فال بھی ٹوٹے ہوئے ساغر سے نکالوں سوچوں کے بیاباں میں لیے پھرتا ہے مجھ کو کیا ذہن بھی سودا ہے جسے سر سے نکالوں اک نسل سخن مجھ میں ہے آباد مظفرؔ صورت نئی ہر لفظ کے اندر سے نکالوں
مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی
مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی مجھ کو عشقِ نبی اِس قدر مل گیا جگمگائے نہ کیوں میرا عکسِ درُوں ایک پتھر کو آئینہ گر مل گیا جس کی رحمت سے تقدیرِ انساں کُھلے اُس کی جانب ہی دروازہء جاں کُھلے جانے عمرِ رواں لے کے جاتی کہاں خیر سے مُجھ کو خیر البشر مل گیا محورِ دو جہاں ذات سرکار کی اور مری حیثیت ایک پرکار کی اُس کی اِک رہگزر طے نہ ہو عمر بھر قبلہء آرزو تو مگر مل گیا اُس کا دیوانہ ہوں اُس کا مجذوب ہوں کیا یہ کم ہے کہ میں اُس سے منسوب ہوں سرحدِ حشر تک جاؤں گا بے دھڑک مجھ تو اتنا تو زادِ سفر مل گیا جس طرف سے بھی گزریں مری خواہشیں مجھ سے بچ کر نکلتیں رہیں لغزشیں جب جُھکائی نظر، جُھک گیا میرا سر نقشِ پا اُس کا ہر موڑ پر مل گیا ذہن بے رنگ تھا ، سانس بے روپ تھی روح پر معصیت کی کڑی دھوپ تھی اُس کی چشمِ غنی رونقِ جاں بنی چھاؤں جس کی گھنی وہ شجر مل گیا جب سے مجھ پر ہُوا مصطفےٰ کا کرم بن گیا دل مظفر چراغِ حرم زندگی پھر رہی تھی بھٹکتی ہوئی میری خانہ بدوشی کو گھر مل گیا