سپیکرز
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں تم اپنے پیچھے چھپے ہوئے ہو بغور دیکھوں تمہیں تو مجھ کو شرارتوں پر ابھارتی ہیں تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں لہو کو شعلہ بدست کر دیں یہ پتھروں کو بھی مست کر دیں حیات کی سوکھتی رتوں میں بہار کا بند و بست کر دیں کبھی گلابی کبھی سنہری سمندروں سے زیادہ گہری تہوں میں اپنی اتارتی ہیں تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں حیا بھی ہے ان میں شوخیاں بھی یہ راز بھی اپنی ترجماں بھی ریاست حسن و عشق کی ہیں رعایا بھی اور حکمراں بھی وہ کھو گیا یہ ملی ہیں جس کو یہ جیتنا چاہتی ہے جس کو اسی سے در اصل ہارتی ہیں تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں کشش کا وہ دائرہ بنائیں حواس جس سے نکل نہ پائیں میں اپنے اندر بکھر سا جاؤں سمیٹنے بھی نہ مجھ کو آئیں عجب ہے انجان پن بھی ان کا میں ان کا اور میرا فن بھی ان کا خموش رہ کر پکارتی ہیں تمہاری آنکھیں شرارتی ہیں
خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی
خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی آئنہ تو صاف ہے تصویر دھندلی ہو گئی سانس لیتا ہوں تو چبھتی ہیں بدن میں ہڈیاں روح بھی شاید مری اب مجھ سے باغی ہو گئی فاش کر دیں میں نے خود اندر کی بے ترتیبیاں زندگی آرائشوں میں اور ننگی ہو گئی پیار کرتی ہیں مرے رستوں سے کیا کیا بندشیں توڑ دی زنجیر تو دیوار اونچی ہو گئی میری جانب آئے پس منظر سے پتھر بے شمار رنگ دنیا دیکھ کر بینائی زخمی ہو گئی پڑ گیا پردہ سماعت پر تری آواز کا ایک آہٹ کتنے ہنگاموں پہ حاوی ہو گئی کر گیا ہے مبتلائے کرب اور اک سانحہ اور کچھ دن زندہ رہنے کی تلافی ہو گئی خواہشوں کی آگ بھی بھڑکائے گی اب کیا مجھے راکھ بھی میری مظفرؔ اب تو ٹھنڈی ہو گئی