کلامِ شاعر
- 01 جہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں
- 02 کاٹی نہیں تو ہر طرف پھیلے گی شاخ جبر کی
- 03 دہائی دوں کہ کھلے ظلم سے بچائے مجھے
- 04 غار سے سنگ ہٹایا تو وہ خالی نکلا
- 05 غار سے سنگ ہٹایا تو وہ خالی نکلا
- 06 روشنی کے اک حوالے کو لئے پھرتا ہوں میں
- 07 خوف دل میں نہ ترے در کے گدا نے رکھا
- 08 جانے کیوں گھر میں مرے دشت و بیاباں چھوڑ کر
- 09 موند کر آنکھیں تلاش بحر و بر کرنے لگے
- 10 گو دہر کے نقشے میں ہیں باہر بھی نہیں ہم
- 11 عجب صدا یہ نمائش میں کل سنائی دی
- 12 اک ردائے سبز کی خواہش بہت مہنگی پڑی
- 13 سرسبز دل کی کوئی بھی خواہش نہیں ہوئی
- 14 خدا نے جس کو چاہا اس نے بچے کی طرح ضد کی
- 15 خشک اس کی ذات کا ساتوں سمندر ہو گیا
- 16 وہ دوست تھا تو اسی کو عدو بھی ہونا تھا
- 17 دہر کے اندھے کنویں میں کس کے آوازہ لگا
- 18 ملا تو حادثہ کچھ ایسا دل خراش ہوا
- 19 لگا دی کاغذی ملبوس پر مہر ثبات اپنی
- 20 گڑے مردوں نے اکثر زندہ لوگوں کی قیادت کی
- 21 سائے کی طرح بڑھ نہ کبھی قد سے زیادہ
- 22 بے خبر دنیا کو رہنے دو خبر کرتے ہو کیوں
- 23 ہر گھڑی کا ساتھ دکھ دیتا ہے جان من مجھے
- 24 ہر کسی کو کب بھلا یوں مسترد کرتا ہوں میں
- 25 رخ روشن کا روشن ایک پہلو بھی نہیں نکلا
- 26 سورج ہوں چمکنے کا بھی حق چاہئے مجھ کو
- 27 پتہ کیسے چلے دنیا کو قصر دل کے جلنے کا
- 28 ایسے گھر میں رہ رہا ہوں دیکھ لے بے شک کوئی
- 29 تم مجھے بھی کانچ کی پوشاک پہنانے لگے
- 30 کل شب دل آوارہ کو سینے سے نکالا
- 31 اک طبیعت تھی سو وہ بھی لاابالی ہو گئی
- 32 پیاسے کے پاس رات سمندر پڑا ہوا
- 33 ختم راتوں رات اس گل کی کہانی ہو گئی
- 34 پھینک یوں پتھر کہ سطح آب بھی بوجھل نہ ہو
- 35 وہ مسلسل چپ ہے تیرے سامنے تنہائی میں
- 36 اس سال شرافت کا لبادہ نہیں پہنا
- 37 اس آئنے میں دیکھنا حیرت بھی آئے گی
- 38 دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیا
- 39 کٹتے ہی سنگ لفظ گرانی نکل پڑے
- 40 مجھے نہیں ہے کوئی وہم اپنے بارے میں
- 41 سنگ دل ہوں اس قدر آنکھیں بھگو سکتا نہیں
- 42 وہ چاند ہے تو عکس بھی پانی میں آئے گا
- 43 سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا
- 44 اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کی