کلامِ شاعر
- 01 رنگّاں وِچّوں رنگ عشق دا، رنگ عشق دا سُوہا
- 02 سُچّے مٹی رُل دے ویکھے
- 03 غزہ دا ہاہڑا
- 04 اِکّ ای جُسّا، اِکّو میں واں
- 05 میں آکھاں مینوں پیار ترے نال
- 06 جے کوئی سالار ملے
- 07 سو دُشمن پھٹ لگاوندا
- 08 ماں جائی دی جُدائی
- 09 الف توں یے تک دی کہانی
- 10 تیرے ہندیاں سُندیاں میں وی اُڈ دا ساں
- 11 کوئی سُفنے دے وچ آکے ساڈے ساہ مہکا جاوے
- 12 لیکھاں دے نے ڈھول پئے گل لوکاں دے
- 13 پل پل گزرن چاہت چانن گَھٹدا جاوے
- 14 تیری راہ وچ اکھّاں نیں
- 15 میرے کول نیں تیریاں یاداں
- 16 تیرے بِن نہ در اے کوئی جس تے جا کے منگیے
- 17 ہونواں قُل ہواللّٰہ دے قُل توں قُرباں
- 18 رات اور پھر اس پہ تیری یاد بھی ہے
- 19 مرے سوال پہ لہجہ بدل لیا اس نے
- 20 آدمی ہے وہ کہ جو جُھکتا ہے رب کے سامنے
- 21 زندگانی، کہ دُکھ مسلسل ہے
- 22 دکھ کی رات میں سکھ کا سورج جَڑ جائے
- 23 سنا ہے آپ شاعر بھی ہیں، نقاد بھی ہیں؟
- 24 پتّے ہیں پیڑ پر کہ ہے پریوں کا پیرہن؟
- 25 اسپِ زماں کو موڑ لوں ماضی کے رخ مگر
- 26 آجائیے حضور مرے کُنجِ قلب میں
- 27 کیجئے آپ کسی اور کھلونے کی تلاش
- 28 میں اُس مقام سے گزرا تو یہ خیال آیا
- 29 سب یہاں تاک میں بیٹھے ہیں کسی لغزش کی
- 30 اے ساکنانِ شہرِ خموشاں! کہ انتظار
- 31 کون جیتا ہے بھلا دل سے نکل کر ؟ راشد!
- 32 مری ہر ایک خوبی ہے ادھاری
- 33 جلال و جمال
- 34 چونکہ ساقی شناس ہیں، پیارے!
- 35 سُنا ہے، شہہ رگ کے پاس ہے ،تُو
- 36 اپنے غم کیا، دوسروں کے دکھ ستاتے ہیں مجھے
- 37 جو مٹی کے کھلونے بیچتا تھا
- 38 اک آہ کی آری سے ہو گَرْدُوں کا جگر چاک
- 39 جھونکے ہو تم تو دل کے بھی آنگن سے ہو چلو
- 40 کہانی کے اندر بھی ہے اک کہانی
- 41 دردِ دل کی دوا نہیں ملتی
- 42 میں ہی ساگر جس کے بھیتر میں ہی ڈوبا یار
- 43 پہلے شدت سے وار کرتا ہے
- 44 غم کا قصہ نہ کبھی ہم سے سنایا جاتا
- 45 یہ زندگی کے ماہ و سال، “حال” میں گزر گئے
- 46 ضبط کا راز جانتا ہوں میں
- 47 گو پھول یہاں کم ہیں، مگر خار بہت ہیں
- 48 بھری محفل میں تنہا کر دیا ہے
- 49 کسی کے چہرے پہ چاند چمکے، چراغ جلتی شہاب آنکھیں
- 50 سُر سے عاری شعر سے بیگانہ ہوں
- 51 آتے آتے آن جگائے مجھ کو ریلا مصرعوں کا
- 52 سب کے باہر جگ مگ جگ مگ،اندر گھور اندھیرا ہے
- 53 چلو یہ مان لیتا ہوں تمہارا کچھ نہیں ہوں میں
- 54 میں ہُوں خاک و خوں سے بُنا گیا، یہ سُنا ہے مَیں ہُوں چُنا گیا
- 55 کہنے کو چند ہاتھ سے بڑھ کر نہیں ہُوں مَیں
- 56 یہ کس نے میرے خیال باندھے؟ کمال باندھے!
- 57 چراغ تلے اندھیرا :
- 58 بابا اور برفی
- 59 محبت
- 60 جنگل کا مور
- 61 دِل
- 62 خوشبُو
- 63 کسی بچھڑ جانے والے کے نام
- 64 مصور و تصویر
- 65 رباعیات
- 66 نعت
- 67 رباعیانہ ترجمہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نعت
- 68 نعتیہ رباعی
- 69 نعتیہ رباعی
- 70 نعت
- 71 حمد