قتیل شفائی

اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)

28 November 2025

21سپیکرز
270لسنرز

سپیکرز

حسن سید کا پیش کردہ کلام

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں

تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جاتے ہیں ساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں ٹوٹ گیا جب دل تو پھر یہ سانس کا نغمہ کیا معنی گونج رہی ہے کیوں شہنائی جب کوئی بارات نہیں غم کے اندھیارے میں تجھ کو اپنا ساتھی کیوں سمجھوں تو پھر تو ہے میرا تو سایہ بھی میرے ساتھ نہیں مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں ختم ہوا میرا فسانہ اب یہ آنسو پونچھ بھی لو جس میں کوئی تارا چمکے آج کی رات وہ رات نہیں میرے غمگیں ہونے پر احباب ہیں یوں حیران قتیلؔ جیسے میں پتھر ہوں میرے سینے میں جذبات نہیں

— قتیل شفائی