سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آدرش
آزاد
اسمارامہر
امید صبح
انتظار حسین
ایم سعید
باسط میر
حسن سید
حسن شبیر
خوشی
ریبل
سجاد رضا
سوہا سلطان
سید جینٹلمین
صباگل
عروج فیاض
فضل عباس
مرزا جواد
ملک
نایاب
نگاہ بسمل
حسن سید کا پیش کردہ کلام
تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں کس کو خبر تھی سانولے بادل بن برسے اڑ جاتے ہیں ساون آیا لیکن اپنی قسمت میں برسات نہیں ٹوٹ گیا جب دل تو پھر یہ سانس کا نغمہ کیا معنی گونج رہی ہے کیوں شہنائی جب کوئی بارات نہیں غم کے اندھیارے میں تجھ کو اپنا ساتھی کیوں سمجھوں تو پھر تو ہے میرا تو سایہ بھی میرے ساتھ نہیں مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں ختم ہوا میرا فسانہ اب یہ آنسو پونچھ بھی لو جس میں کوئی تارا چمکے آج کی رات وہ رات نہیں میرے غمگیں ہونے پر احباب ہیں یوں حیران قتیلؔ جیسے میں پتھر ہوں میرے سینے میں جذبات نہیں